بسنت کا تہوار ایک قدیم تہوار ہے ۔ یہ پنجاب کی صدیوں پرانی ثقافتی روایت ہے ۔ اصل میں اس تہوار کو وسنت استو کہا جاتا تھا ۔ اس کو وسنت پنچمی بھی کہا جاتا ہے ۔ سنسکرت میں وسنت کا مطلب ہے بہار اور پنچمی کا مطلب ہے پانچواں دن ۔ یہ پنجابی کیلنڈر کے مطابق ماگھ کے مہینے کے پانچویں دن منایا جاتا ہے ۔ یہ تہوار پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک میں بہت مشہور ہے اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بسنت کو ایک موسمی تہوار سمجھا جاتا ہے ۔ یہ تہوار موسم بہار کے آنے کی خوشی میں منایا جاتا ہے ۔ سردی کے موسم میں لوگ ذیادہ تر گھروں میں بند رہتے ہیں ۔ تفریح کے مواقع بھی محدود ہو تے ہیں ۔ لیکن جب موسم بدلنے لگتا ہے، سردی کی شدت میں کمی آتی ہے تو لوگ باہر کا رخ کرتے ہیں ۔ خزاں کے موسم میں درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔ ہر طرف اداسی ہوتی ہے وہاں بہار کا موسم سب کے لیے خوشی کا پیغام لاتا ہے ۔ موسم بہار میں سوکھے ہوئے درخت اور پودے پھر سے ہرے بھرے ہو جاتے ہیں نئی کونپلیں کھلتی ہیں ۔ ہر طرف سبزہ دکھائی دیتا ہے ۔ کھیتوں میں نئی زندگی نظر آتی ہے ۔ سرسوں کے کھیت پیلے اور سبز رنگ کے لبادے اوڑھ لیتے ہیں ۔ باغوں میں مختلف رنگوں کے پھول کھلتے ہیں اور پرندے چہچہاتے ہیں ۔
بہار آنے کی خوشی میں لوگ پتنگیں اڑاتے ہیں ۔ آسمان شوخ رنگوں کی پتنگوں سے سج جاتا ہے۔ سب لوگ پیلے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں ۔ مرد اور لڑکے پیلے رنگ کے کرتے جبکہ لڑکیاں اور خواتین پیلے رنگ کی قمیض شلوار اور دوپٹہ اوڑھتی ہیں ۔ اس تہوار پر خاندان والے اور دوست احباب ایک دوسرے کے گھر اکٹھے ہوتے ہیں ۔ مزیدار پکوان بنائے جاتے ہیں ۔ پتنگیں اڑائی جاتی ہیں ساتھ میں موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے ۔ نوجوان ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہیں ۔ ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے ۔ ہمسایوں کے ساتھ میٹھے پکوانوں کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے ۔ بسنت کا آغاز رات سے ہی ہو جاتا ہے ۔ چھتوں پر بڑی بڑی لائٹس لگائی جاتی ہیں ۔ آسمان سفید رنگ کی پتنگوں سے بھر جاتا ہے ۔ لاہور ، قصور ، گوجرانوالہ اور راولپنڈی میں بسنت روایتی جوش و جذبہ سے منائی جاتی ہے ۔ دوسرے شہروں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ بسنت کا اصل لطف اٹھانے کیلئے ان شہروں کا رخ کرتے ہیں ۔ اندرونِ لاہور میں تو بسنت کا تہوار قابل دید ہوتا ہے ۔
بسنت بنیادی طور پر ہندوؤں کا مذہبی تہوار ہے ۔ اس کا ذکر ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ اس دن مندر جاتے ہیں ، سرسوتی دیوی کی پوجا کرتے ہیں ، پرساد کے طور پر حلوے ، مٹھائیاں اور میٹھے چاول پیش کرتے ہیں ۔ ہندو لوگ بسنت کو زندگی کے تمام شعبوں میں نئی شروعات کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔ یہ تہوار ہندوستان کے علاوہ پاکستان ، بنگلہ دیش ، نیپال اور دیگر ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے ۔ یہ تہوار بہت پرانا ہے ۔ ہندو اور مسلمان تقسیم سے قبل چونکہ اکٹھے رہتے تھے اس لیے مسلمان بھی اس تہوار کو مناتے تھے اگرچہ مسلمانوں کیلئے بسنت منانا مذہبی نہیں بلکہ ایک ثقافتی روایت تھی ۔
یہ تہوار پاکستان میں اتنا مقبول ہوا کہ اس کو حکومتی سرپرستی حاصل ہو گئی ۔ حکومتی سطح پر بسنت منائی جانے لگی ۔ بہار کا موسم شروع ہوتے ہی مختلف شہروں میں بسنت کا انعقاد مقامی چھٹی کے لحاظ سے کیا جاتا رہا ۔ جشن بہاراں کے نام سے میلے منعقد کیے جانے لگے جس میں بسنت سب سے اہم تصور کی جاتی تھی ۔ لیکن کچھ نا خوشگوار واقعات کی وجہ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا اور اس تہوار پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ لوگوں کو نہ صرف پتنگ اڑانے بلکہ اس کی تیاری اور خریدوفروخت سے بھی منع کر دیا گیا ۔ اس پابندی سے وہ لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے جو اس کاروبار سے منسلک تھے ۔ یہ تہوار جہاں خوشیاں لاتا تھا وہاں اس تہوار کی وجہ سے کئی گھروں میں صف ماتم بھی بچھ جاتی تھی ۔ پتنگ بازی کے دوران خوشی میں اور بعض اوقات لڑائی جھگڑے کے نتیجے میں فائرنگ سے کئی نوجوان ہلاک ہو جاتے تھے ۔ ایک دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے لیے ڈور کی جگہ دھاتی تار کا استعمال کیا جاتا تھا جس سے کئی بچے اور بڑے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے گلا کٹنے سے موت کے منہ میں چلے گئے ۔ دھاتی تار جب بجلی کی تاروں سے ٹکراتی تو شارٹ سرکٹ کا سبب بنتی جس سے لوگوں کو کرنٹ لگنے اور بجلی کا سامان جلنے کے واقعات رونما ہوتے ۔ بچے کٹی ہوئی پتنگ کے پیچھے بھاگتے ہوئے کبھی چھتوں سے گرتے اور کبھی چلتی سڑک پر کسی گاڑی سے ٹکرا جاتے ۔ ایسے بہت سے واقعات کی وجہ سے اس تہوار پر پابندی عائد کر دی گئی ۔
آج بھی پاکستان میں بسنت منانے پر پابندی ہے ۔ حکومت نے نا خوشگوار واقعات پر قابو پانے کی بجائے بسنت پر پابندی عائد کرنا زیادہ مناسب سمجھا جبکہ یہ خوشیوں کا تہوار ہے اس پر پابندی عائد کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ۔ اس کو ختم کرنے کی بجائے قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔
.jpeg)
No comments:
Post a Comment