اردو محاورے (ن اور و)

 

ناک بھوں چڑھانا:
نخرہ دکھانا: بچوں کو باہر کا کھانا کھانے کی اس قدر عادت پڑ چکی ہے کہ گھر میں بنی ہوئی ہر چیز پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔
ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا: 
نازک مزاج ہونا: ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دیتا تھا مگر اب دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔
ناک رگڑنا: 
منت سماجت کرنا: اپنے بے گناہ بیٹے کو پھانسی سے بچانے کے لیے غریب مزدور نے بڑے بڑے ججوں کے سامنے ناک رگڑی مگر بے سود۔
ناک کٹنا:
بدنامی ہونا: گھر سے بھاگ کر شادی کر کے اس نے اپنے خاندان کی ناک کٹوا دی ہے۔
ناک میں دم کرنا: 
بہت تنگ کرنا: سب بچوں نے مل کر دادی جان کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔
ناکوں چنے چبوانا:
بہت تنگ کرنا: اگر تم نے میری رقم جلد واپس نہ کی تو میں ایسے ناکوں چنے چبواؤں گا کہ یاد رکھو گے۔
ناک کا بال ہونا: 
بہت قریب ہونا: وہ خان صاحب کا پرانا ملازم ہے اس لیے ان کی ناک کا بال بنا ہوا ہے۔
نیکی برباد گناہ لازم: 
بھلائی کرنا مگر برائی پانا: بدنیت شخص کے ساتھ خواہ کتنی بھلائی کرو مگر انجام وہی کہ نیکی برباد گناہ لازم۔
نشہ ہرن ہونا: 
نشہ دور ہونا: خود کو پولیس کی حراست میں پا کر شرابی کا سارا نشہ ہرن ہو گیا۔
نظروں سے گرنا: 
بے قدر ہونا: اپنی چغل خوری اور جھوٹ بولنے کی عادت کی بنا پر وہ ہم سب کی نظروں سے گر چکی ہے۔
نیند حرام کرنا: 
سونے نہ دینا: آج کل کے موسم میں مچھروں نے نیند حرام کر رکھی ہے۔
نو دو گیارہ ہونا:
بھاگ جانا: چور مسجد سے نمازیوں کے جوتے اٹھا کر نو دو گیارہ ہو گیا۔
نظروں میں پھرنا: 
یادآجانا: اپنے پرانے گھر کو دیکھ کر بچپن کی یادیں میری نظروں میں پھر گئیں۔
نقشہ بگڑنا: 
حالت بدل جانا: غربت اور بدحالی انسان کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیتی ہے۔
مسیب کی شامت: 
بدقسمتی: یہ پاکستانیوں کے نصیب کی شامت ہے کہ انہیں آج تک کوئی مخلص حکمران نہیں مل سکا۔
نکسیر بھی نہیں پھوٹی: 
ذرا بھی صدمہ نہ پہنچنا: ہمسائے میں اتنا بڑا حادثہ ہو گیا مگر ناظمہ کی نکسیر بھی نہیں پھوٹی۔
وارے نیارے ہونا: 
خوب فائدہ ہونا: اس سال چینی اتنی مہنگی بکی ہے کہ مل مالکان کے وارے نیارے ہو گئے ہیں۔
واہی تباہی بکنا: 
بے ہودہ باتیں کرنا: ہوش میں رہ کر بات کرو، کیا واہی تباہی بک رہے ہو؟



No comments:

Post a Comment