یہ گلوبل وارمنگ کا زمانہ ہے۔ گلوبل وارمنگ ایسی صورتحال ہے جس میں زمین کا درجہ حرارت بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کرہ ارض پر لاتعداد تبدیلیاں آئیں پھر کہیں جا کر اس کا درجہ حرارت انسان و جانوروں اور نباتات کے رہنے کے قابل ہوا ہے لیکن چند سو سال قبل ماہرین کو احساس ہوا کہ زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے ۔ بڑھتی گرمی کی وجہ سے گلیشیئرز زیادہ تیزی سے پگھلنے لگے ہیں جس سے سمندر کی سطح بلند ہوئی ہے اور ساحلی طوفانوں نے شہری آبادیوں کا رخ کر کے تباہی مچا دی ہے ۔ بارشیں زیادہ ہونے لگی ہیں جس سے سیلابوں نے نہ صرف دیہی بلکہ شہری علاقوں کا بھی رخ کر لیا ۔ فضا میں مختلف گیسیں موجود ہوتی ہیں ۔ ان گیسوں کی زیادتی کی وجہ سے سورج کی کرنیں زمین سے ٹکرانے کے بعد واپس فضا میں نہیں جا سکتیں جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔ اس عمل کو گلوبل وار منگ یا زمینی تپش میں اضافہ کہتے ہیں ۔
یورپی ممالک
1760ء میں یورپ میں ایک صنعتی انقلاب آیا جس کے نتیجے میں یورپ میں سینکڑوں کارخانے لگائے گئے جن کی چمنیوں سے اٹھنے والا دھواں نہ صرف یورپ بلکہ پورے کرہ عرض کی فضا کو زہریلا کر گیا اور زمین کی حفاظتی تہہ کمزور کردی۔ ماہرین کے مطابق اب تک زمین کے درجہ حرارت میں اوسطا دو درجے کا اضافہ ہوا ہے ۔ تاریخ انسانی کے 10 گرم ترین سال 2010ء کے بعد سامنے آئے ۔ یورپ خاص طور پر لندن میں گرمی کے نتیجے میں پہلی دفعہ وسیع پیمانے پر پنکھوں کی خریداری عمل میں آئی ۔ گزشتہ 20 برسوں میں صرف یورپ میں لو لگنے سے ایک لاکھ 38 ہزار لوگ زندگی کی بازی ہار گئے ۔ ایشیا اور افریقہ میں مرنے والوں کی تعداد زیادہ تشویش ناک ہے۔جبکہ پچھلے 20 برسوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پوری دنیا میں پانچ لاکھ لوگ مر چکے ہیں ۔ 2022ء کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ انسانی کا گرم ترین سال تھا جس کے سنگین نتائج خود کرہ ارض کے باسیوں کو بھگتنا پڑے۔
وجوہات
1۔موسمی تبدیلیاں
اگر ماحول پر نظر ڈالی جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ گلوبل وارمنگ دراصل ایک ماحولیاتی مسئلہ ہے ۔ زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس اضافے کی وجہ سے گلیشیئرز زمینی ماحول میں بہت سی تبدیلیاں لا رہے ہیں بڑھتی گرمی کی وجہ سے گلیشیئرز زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے سمندر کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ آب وہ ہوا میں ہونے والی اس تبدیلی سے خشک سالی ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسی قدرتی آفات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ موسم گرما کا دورانیہ طویل ہوتا جا رہا ہے اور موسم سرما کی شدت کم ہوتی جا رہی ہے ۔ بے موسم کی بارشیں ہو رہی ہیں اور گرمیوں میں ژالہ باری ہو رہی ہے ۔ ان سب محرکات کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن اس سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر بنائی جا سکتی ہے جن کا وقت سے پہلے اپنانا بہت ضروری ہے
2۔فضا میں موجود گیسیں
ہماری زمین سے کچھ ایسی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جو کہ ہمارے ماحول کو خراب کر رہی ہیں ۔ جن میں کاربن ڈائی اکسائیڈ ،میتھین اور کلورو فلورو کاربن شامل ہیں ۔ یہ سب گیسیں ہم ہی پیدا کر رہے ہیں مثلا ریفریجریٹر اور اے سی سے نکلنے والی کلورو فلورو کاربن گیس زمین کے گرد اوزون کی تہہ کو تباہ کر رہی ہے ۔ اوزون کی تہہ سورج کی شعاؤں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے اس کے علاوہ میتھین گیس کھیتوں سے پیدا ہوتی ہے خاص طور پر جب چاول کی کاشت عمل میں لائی جاتی ہے یہ گیس بھی کاربن ڈائی اکسائیڈ کی طرح گلوبل وارمنگ کا باعث بنتی ہے
3۔ماحولیاتی آلودگی
ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ کچھ نیا نہیں بلکہ 10، 15 سال پرانا ہے ۔ اس وقت سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی زہریلی گیسوں کی وجہ سے ہے ۔ جب ہم تیل کوئلہ یا قدرتی گیس جلاتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے جو کہ گلوبل وارمنگ کا باعث بنتی ہے ۔ قدرتی وسائل کروڑوں برسوں سے مخفی حالت میں پڑے ہوئے تھے ۔ پچھلی چند صدیوں میں انہیں نکالنے کے بعد کثرت سے استعمال کیا گیا ۔ صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ان وسائل کا بے دریغ استعمال آلودگی کا باعث بن رہا ہے ۔ پچھلے چند سالوں سے ماحولیاتی آلودگی کی ایک نئی قسم سامنے آئی ہے جس کو سموگ کہتے ہیں ۔ سموگ نام کی اس ماحولیاتی آلودگی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ سموگ سے انسانوں اور جانوروں کے اعضاۓ تنفس بری طرح متاثر ہوتے ہیں ۔ چھ سال سے دہلی ، لاہور اور اصفہان جیسے شہر بھی سموگ کے نشانے پر رہے ہیں ۔ لاہور میں سموگ کے تین چار ماہ کے دوران مردوں ، عورتوں بچوں اور بوڑھوں میں سانس اور سینے کے امراض کئی گنا بڑھ جاتے ہیں ۔ ایک شہری اس دوران نظام تنفس کے ساتھ جو زہریلی ہوا جسم میں اتارتا ہے وہ اتنا ہی نقصان دہ ہوتا ہے جتنا روزانہ 20 سے زائد سیگریٹ پھونکنے سے ہو سکتا ہے۔
4۔درختوں کا کٹاؤ
گلوبل وارمنگ کی ایک اور اہم وجہ درختوں کا کٹاؤ بھی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ درخت کاٹنے سے فضا میں موجود آکسیجن کے مقدار کم ہو جاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقدار زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنی خوراک بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اگر درخت کاٹ دیے جائیں تو فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہو جاتی ہے اور زمینی تپش میں اضافے کا سبب بنتی ہے ۔
اثرات
آنے والے وقتوں میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا کو بدترین خشک سالی ، گرمی کی شدید لہر ، سمندری اور ہوائی طوفانوں اور سیلابوں کا سامنا کرنا ہوگا ۔ 2011ء سے 2015ء تک شدید نوعیت کے موسمیاتی تغیرات وقوع پذیر ہو چکے ہیں ۔ موسمی شدت سے متاثر ہونے والے ممالک کی تعداد 10 ہے جن میں سے چار افریقہ میں ہیں ان 10 ممالک میں انڈیا ، پاکستان اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں ۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں سیلاب ، سمندری طوفان اور خشک سالی انسانوں پر عذاب بن کر ٹوٹے اور 300 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔ پچھلے 15 سے 20 سال دنیا کے گرم ترین سال تھے ۔ یورپی ممالک میں بھی گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے 50 برسوں میں دنیا شدید گرمی سے متاثر ہوگی جن میں خلیج فارس کا نام قابل ذکر ہے ایران ، دبئی ، عراق ، سعودی عرب اور ابو ظہبی کے علاوہ ہمسایہ ممالک میں بھی بہت زیادہ گرمی ہوگی ۔ درجہ حرارت 74 سے 78 سینٹی گریڈ تک جا پہنچے گا گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ سیلاب آ رہے ہیں ، فصلیں اور املاک تباہ ہو رہی ہیں ، غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور موسمی شدت سے نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں ۔
پاکستان
پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں سر فہرست ہے جو گلوبل وارمنگ اور بڑھتی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں ، موسم گرما کی طوالت ، موسم سرما کی شدت میں کمی ، بے موسم کی بارشیں، جون میں ژالہ باری اور دیگر عوامل اسی ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہیں ۔پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کا گلوبل وارمنگ کے باعث بننے والی گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے لیکن یہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ اس کے باعث پاکستان کے سلسلے کو ہمالیہ میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے سیلاب کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے ۔ درجہ حرارت بڑھنے سے پاکستان کی زرعی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے ۔آب و ہوا میں تبدیلی سے خشک سالی، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسی قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ پاکستان میں گلوبل وارمنگ کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹیکنالوجی میسر نہیں ہے جس کے باعث درجہ حرات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔اگر چند احتیاطی تدابیر سے عوام کو روشناس کرا دیا جائے تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان بھی گلوبل وارمنگ پر قابو پانے میں کسی ملک سے پیچھے نہ رہے گا۔
بین الاقوامی اقدامات
گلوبل وارمنگ نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک کا بھی مسئلہ ہے ۔ اس سلسلے میں متاثرہ ممالک کے درمیان بہت سی کانفرنسیں بھی ہو چکی ہیں جن میں گلوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر غور کیا جاتا ہے ۔ جاپان کے شہر کیوٹو میں 1997ء میں گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر ایک معاہدہ کیا گیا ۔ یہ ایک بین الاقوامی سطح کا معاہدہ ہے جس کے رو سے دنیا نے یہ طے کیا کہ ان گیسوں کے اخراج میں کمی کی جائے گی جس کی وجہ سے عالمی حرارت بڑھتی جا رہی ہے ۔ زمین سے نکلنے والے ایندھن پر انحصار بتدریج کا کم کیا جائے گا اور 2008ء سے 11 20ء تک کاربن آلود گیسوں کے اخراج میں 2.5 فیصد کمی کی جائے گی ۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ کاربن آلود گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور دنیا کی اندازا 75 فیصد گیسیں اس ملک سے خارج ہوتی ہیں ۔ بہرحال یہ ہر ملک کا انفرادی طور پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنا حصہ ڈالے اور اس عفریت سے دنیا کو بچاۓ۔ قدرتی وسائل کی جانب ہمارا رویہ خود غرضانہ ہے جس کا خمیازہ پوری دنیا کے انسانوں کو سیلاب، خشک سالی، طوفان اور موسموں کی شدت کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے لہذا ان سب نقصانات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کا اپنانا ضروری ہے ورنہ زمین کا یہ نازک توازن جس پر زندگی کا دارومدار ہے جلد تباہ ہو جائے گا جبکہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک اچھا موسم و ماحول چھوڑنا ہے۔
.jpeg)
No comments:
Post a Comment