توہم پرستی

 


توہم پرستی دراصل غیر معقول عقائد ہوتے ہیں جو دنیا کے سائنسی علوم سے متصادم ہوتے ہیں۔ توہم پرستی کا عمل مادی دنیا سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ماہر نفسیات جین رائزن  Jane Risen کے مطابق "یہ عقائد محض سائنسی طور پر غلط نہیں بلکہ ناممکن ہیں"۔ لائسن ڈیمش Lysann Damisch نے توہم پرستی کی تعریف "غیر معمولی عقائد"کے طور پر کی ہے۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں انہیں "غیر معقول، بے بنیاد" کہا گیا ہے مریم ویبسٹر میں توہم پرستی کو "کسی عمل کے بارے میں غلط تصور" کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا نے توہم پرستی کی تعریف عام طور پر "مذہب کی زیادتی" کے طور پر کی ہے۔ ماہر نفسیات  Stuart Vyse  نے کہا ہے کہ تقریبا 2010ء تک زیادہ تر محققین نے توہم پرستی  کو غیر معقول سمجھا اور اپنی توجہ یہ دریافت کرنے پر مرکوز کی کہ لوگ توہم پرست کیوں ہیں۔ توہم پرستی دراصل بے بنیاد عقیدے، بلاوجہ کا خوف، مافوق الفطرت مخلوق کا یقین اور غیر معمولی واقعات ہیں۔ لوگ کسی بھی غیر معمولی واقعے کو توہم پرستی کی وجہ سے مثبت یا منفی طور پر کسی نہ کسی چیز سے جوڑ دیتے ہیں۔

 یہ توہم پرستی زندگی کے ہر شعبے میں پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کاروباری دنیا میں بھی توہم پرستی پائی جاتی ہے۔ ہر مہینے کی 13 تاریخ کو 700 ملین ڈالر اور 800 ملین ڈالر کے درمیان نقصان ہوتا ہے۔ کیونکہ لوگ 13 تاریخ کو منحوس سمجھتے ہیں اس لیے اس دن وہ سفر کرنے، اہم اشیاء خریدنے اور کاروبار کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ چین میں ینگ شوئی ایک عقیدہ ہے جس کے مطابق مختلف مقامات کے منفی اثرات ہوتے ہیں جیسے کہ گھر کے شمال مغرب میں اگر کوئی کمرہ ہوگا تو وہ اچھا نہیں ہوتا۔ اسی طرح نمبر 8 چائنہ میں ایک خوش قسمت نمبر سمجھا جاتا ہے لہذا چائنہ میں گھروں کے نمبرز میں 8 کا نمبر ہونا ضروری ہوتا ہے۔ چائنہ کے علاوہ باقی دنیا میں بھی نمبرز کے بارے میں توہم پرستی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 13 کے ہندسے کا خوف۔ اس کو Triskaidekaphobia کہتے ہیں۔ لوگ اسی نمبر سے کتراتے ہیں اور اس کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اس نمبر کی گاڑی اور گھر لینے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح مشرقی ایشیائی ممالک میں 4  کے ہندسے کے بارے میں توہمات پائے جاتے ہیں۔ ان ممالک میں 4 نمبر موت یا مرنے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 666 کے ہندسوں کو بھی منحوس مانا جاتا ہے۔

 دنیا میں مختلف جانور بھی توہمات سے جڑے ہوئے ہیں۔ لوگ کالی بلی کے راستہ کاٹنے کو اچھا نہیں سمجھتے ہیں۔ کئی ممالک میں خرگوش کا راستہ عبور کرنا بدقسمتی کی علامت ہے۔ انڈیا میں الو کی آواز موت کی علامت ہے۔ انڈیا اور پاکستان میں صبح صبح کوے کا بولنا کسی مہمان کے آنے کی پیشگی اطلاع سمجھی جاتی ہے۔ کتے یا بلی کا رونا تباہی یا موت کا پیغام لاتا ہے۔ دی گریٹ ڈپریشن  The Great Deppression جو کہ ایک شدید عالمی معاشی بدحالی کا دور تھا اس میں لوگوں کا خرگوش کے پاؤں کو خوش قسمتی کیلئے اپنے ساتھ رکھنا ایک عام بات تھی۔ گھوڑے کی نعل کو بھی ایک طویل عرصے تک خوش قسمت سمجھا جاتا رہا ہے چین میں یارو Yarrow جو ایک پودا ہے اور کچھوے کے خول کو اپنے  پاس رکھنا خوش قسمتی کی علامت ہے۔

 جانوروں کے علاوہ کئی چیزوں کے ساتھ بھی توہمات وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر آئینہ توڑنا سات سال کی نحوست لاتا ہے اسی وجہ سے قدیم روم سے لے کر شمالی ہندوستان تک آئینے کو احتیاط کے ساتھ سنبھالا جاتا ہے۔ کچھ توہم پرست ملاحوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر گھوڑے کی نعل کو کشتی یا جہاز میں کسی پول کے ساتھ لٹکا دیا جائے تو جہاز کو طوفانوں سے بچنے میں مدد ملے گی۔ جھاڑو کے ساتھ کئی توہمات جڑے ہوئے ہیں جیسا کہ نئے سال کے تین دن کے اندر جھاڑو کا استعمال کرنا بدقسمتی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ خوش قسمتی کو ختم کر دے گا۔ انڈیا اور پاکستان میں  کے مغرب کے وقت جھاڑو لگانا رزق میں کمی کرتا ہے۔ کرونا وائرس کی وبا کے دوران انڈونیشیا کے کچھ حصوں میں ناریل کے درخت سے بنایا جانے والا روایتی ماسک مکینوں کو محفوظ رکھنے کے لیے گھر کے دروازوں پر لٹکایا جاتا تھا۔

 کچھ لوگوں کے کچھ کام کرنے کے انداز بھی تو ہم پرستی کے زمرے میں آتے ہیں مغرب میں عام طور پر سیڑھی کے نیچے چلنا، کسی کے کندھے پر نمک پھینکنا اور گھر کے اندر چھتری کھولنا جیسے کام بھی توہمات کو ظاہر کرتے ہیں۔ "Break a leg" ایک عام انگریزی محاورہ ہے جو تھیٹر یا دیگر پرفارمنگ آرٹس میں کسی اداکار یا موسیقار کو پرفارم کرنے کے لیے سٹیج پر جانے سے پہلے یا آڈیشن کیلئے جانے سے پہلے گڈلک کہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انڈیا میں کوئی نیا کام کرنے کیلئے جانے سے پہلے میٹھا دہی کھانا کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کچھ توہم پرستانہ اعمال کے ساتھ عقلی دلیل بھی ظاہر ہو تی ہے۔ آٹھویں صدی میں چھتری کو گھر کے اندر کھولنا ایک جسمانی خطرہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس وقت چھتریاں کھولنے کیلئے جو دھاتی سپرنگ استعمال ہوتے تھے وہ جسمانی طور پر واقعی نقصان پہنچا سکتے تھے۔ اس طرح محفوظ سفر کرنے کے لیے ریل کی پٹڑیوں کو عبور کرنے سے پہلے دائیں اور بائیں پھونک مارنا شامل تھا جبکہ اس طرح وہ شخص ریل کی پٹڑی عبور کرنے سے پہلے دونوں طرف دیکھ لیتا تھا اور دھیان سے پٹری عبور کرتا تھا۔ 

 اکیسویں صدی میں سائنسی ترقی کی وجہ سے لوگوں کا توہم پرستی پر یقین کم ہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود جن ممالک کی شرح خواندگی کم ہے وہاں پر ابھی بھی توہم برستی پائی جاتی ہے۔ کچھ ممالک میں توہم پرستی نے رسوم کی جگہ لے لی ہے یعنی کہ پڑھے لکھے لوگ بھی ان بے بنیاد عقائد پر یقین کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا تعلق ان کے آباؤاجداد سے ہوتا ہے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ یہ سب کیسے شروع ہوا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے کہ نہیں۔ جہاں تک بات پاکستان کی ہے تو یہاں پر توہم پرستی عام ہے۔ لوگ جلدی جادو ٹونا، تعویذ اور بھوت پریت کی باتوں پہ یقین کر لیتے ہیں اور اپنا وقت اور روپیہ ضائع کرتے ہیں۔ اس کی وجہ لوگوں کا جذباتی ہونا، کم تعلیم، معاشی بدحالی اور مذہب سے دوری ہے۔ بہرحال توہم پرستی بذات خود ایک اچھی چیز نہیں ہے کیونکہ لوگ توہم پرستی کی وجہ سے غلط عقائد کو سچ سمجھ لیتے ہیں وہ ان کی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کرتے اگر توہم پرستی حد سے بڑھ جائے تو بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس سے انسان کی نا صرف ذہنی صحت بلکہ جسمانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے لہذا کسی بھی قسم کی توہم پرستی سے گریز کرنا صحت مند طرز زندگی کیلئے ضروری ہے۔ 

No comments:

Post a Comment