ٹیپو سلطان



ہندوستان کی سلطنت میسور کا آخری فرمانروا ،نواب حیدر کا بیٹا، تحریک آزادی ہندوستان کا پہلا شہید ٹیپو سلطان دیون ہلی کے مقام پر پیدا ہوا۔ با ہمت ، رعب دار ، پُر وقار ، دلیر، جانباز جرنیل اور سپہ سالار ، جس کی بڑی بڑی آنکھیں اور کمان دار ابرو اُس کی وسیع النظری کی غمازی کرتی تھیں ، نماز اور روزے کا پابند ، بُری باتوں سے اپنی زبان کو محفوظ رکھنے والا یہ عظیم حکمران ٹیپو سلطان تھا۔ وہ ٹیپو جس کو نہ صرف ہندوستان کے تمام مورخین ، خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان ، بلکہ تمام مغربی مورخین بھی آج تک شیر میسور کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کی بہادری دنیا کی تمام قوموں کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ آپ کے دربار میں ہمیشہ علمی، ادبی اور سیاسی گفتگو ہی کی جاتی تھی۔ سلطنت کے عہدیدار رنگ ونسل کی تمیز کے بغیر رکھے جاتے تھے۔ اس لیے آپ کے دربار میں کئی امرا اور وزیر ہندو بھی تھے۔ اعلی انتظامی صلاحیتوں کے حامل ٹیپو سلطان نے اپنی سلطنت میں غلاموں کی خرید و فروخت پر پابندی ، بلا سودی بینکوں کا قیام ،پولیس کا اعلی نظام اور چھوٹے دستکاروں کی حوصلہ افزائی جیسے بہت سے اقدامات کر رکھے تھے۔

ابتدائی حالات و واقعات 

 سلطان ٹیپو کا اصل نام فتح علی خان تھا۔ آپ ۱۷۵۱ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حیدر علی سلطنت میسور کے فرماں روا تھے جو آخری دور میں دکن کی سب سے بڑی اور طاقتور سلطنت تھی۔ حیدر علی برصغیر ( پاک و ہند ) کے پہلے فرماں روا تھے جنھوں نے ہندوستان پر انگریزی تسلط کے خطرات کا صحیح اندازہ لگایا اور اس خطرے کی بیخ کنی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ میدان جنگ ہی میں اُن کا انتقال ہوا۔ والد کے انتقال کے بعد ٹیپو سلطان نے اس کام کو جاری رکھا۔ انگریز آپ کو بڑی سلطنت دے کر ساتھ ملا لینا چاہتے تھے جیسا کہ وہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے ساتھ کر چکے تھے ۔ سازشوں اور رشوتوں کے زور پر وہ تقریباً تمام ہندوستان پراپنی حکومت قائم کر چکے تھے۔ انگریزوں کی اس پیش کش کو قبول نہ کر کے ٹیپو نے دنیا کے لیے یہ مثال قائم کی کہ اپنے وطن اور اپنی آزادی کے سامنے مال و دولت اور اقتدار کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔

ٹیپو کے اعلی و ارفع خیالات اور اس کے درباریوں میر صادق اور پورنیا کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ اُن دونوں کو انگریزوں نے جاگیروں اور مال و دولت کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا ۔ وہ مال و دولت جو انگریز یہیں سے لوٹ رہے تھے اور اُس میں سے کچھ حصہ انھیں اور ان جیسے دیگر غداروں کو دینے کا وعدہ کر کے اُن سے اپنی مرضی کے کام لیتے تھے۔

شہادت

آخر ایک سخت مقابلے میں ٹیپو سلطان کی ۳۰ ہزار فوج کے مقابلے میں انگریز ، ہندو مر ہٹے اور مطلب پرست مسلمان حکمران نظام دکن کی ۵۰ ہزار فوج آئی۔ ٹیپو سلطان بذات خود جنگ میں حصہ لیتے ہوئے بھی قلعے سے باہر اور کبھی اندر جا رہے تھے۔ غداروں نے تو پوں میں بارود کے بجائے ریت کے گولے بھر دیے تھے۔ اس طرح کے بہت سے نقصانات پہنچانے کے ساتھ ساتھ ایک مرتبہ نیچ کے قلعے سے باہر نکلنے پر پیچھے سے قلعے کا دروازہ پورنیا (نیو سلطان کے وزیر مالیات) نے بند کر دیا۔ ٹیپو سلطان جب واپس پلٹے تو دروازہ بند پا کر دروازے کے سامنے ہی دشمنوں سے لڑتے رہے۔ کچھ ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ آپ اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کر دیں ، اس طرح آپ کی جان بچ جائے گی۔ لیکن اس موقع پر اُس عظیم سلطان نے وہ جملہ کہا جو ضرب المثل بن گیا :

 شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

"ٹیپو سلطان ۴ مئی ۱۷۹۹ء کو لڑتے لڑتے شہید ہوئے ۔ آپ کو شہید ہوتے دیکھ کر انگریزوں نے نعرہ لگایا ” اب ہندوستان ہمارا ہے۔"

No comments:

Post a Comment