دیہی اور شہری زندگی



دیہی اور شہری زندگی ایک ہی تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ۔ میری نظر میں دیہی اور شہری زندگی کی اپنی اپنی خاصیت ہوتی ہے ۔ پاکستان میں 55 فیصد لوگ دیہاتوں اور 45 فیصد لوگ شہروں میں رہتے ہیں ۔ کئی اعتبار سے شہری زندگی بہتر ہے اور کئی پہلوؤں سے دیہات کی زندگی بہتر ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ دونوں کی کیا خاص بات ہے ۔
مل جل کر رہنے کا طریقہ سب سے پہلے دیہات سے شروع ہوا ۔ دیہات بڑھتے بڑھتے قصبوں اور شہروں میں تبدیل ہوتے گئے ۔ اس کے علاوہ حسب ضرورت نئے شہر آباد ہوتے گئے ۔ اب بھی یہی ہو رہا ہے شہر سے ملحقہ دیہات بھی شہر کا حصہ بنتے جا رہے ہیں ۔ دیہات میں فطرت اپنے پورے جوبن پر ہو تی ہے ۔ سادگی دیہات کا زیور ہوتی ہے ۔ قدرتی مناظر کھلی ہوا ، سبزہ زار ، سایہ دار درخت  اور پھولوں کی مہک سے زندگی انتہائی پر کیف ہو جاتی ہے ۔ دیہات کی زندگی نئی تہذیب کے ملمع متصنی سے پاک ہوتی ہے ۔ اس کی سادہ سی رنگینیاں دلوں کو بھاتی ہیں ۔ محلوں کی بجائے گارے اور مٹی کے بنے ہوئے سیدھے سادھے مکانوں میں زیادہ سکون ملتا ہے۔ ذہن پریشانیوں، شہری گھٹن اور غیر ضروری لوازمات سے پاک رہتا ہے۔
 شہروں میں زندگی کو آرام اور سکون میسر نہیں ۔ یہاں کی ہوا کثیر ہوتی ہے ۔ کارخانوں کی چمنیوں اور گاڑیوں کے دھوئیں کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی صحت کو خراب کرتی ہے ۔ صاف ستھری ہوا نام کو نہیں ملتی ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ مکان پختہ ہوتے ہیں ۔ سڑکیں تارکول سے بنی ہوئی ملتی ہیں ۔ پانی بجلی اور دیگر تعلیمی سہولتیں ملتی رہتی ہیں ۔ تجارتی مراکز شہروں میں ہوتے ہیں ۔ مصنوعات کی بھرپور پیداوار بھی شہروں ہی میں ہوتی ہے ۔ ہر آدمی کو کام آسانی سے مل جاتا ہے ۔ مزدوروں کو مزدوری مل جاتی ہے لیکن شہروں میں فطرت کی تازگی لطافت اور حسن کی بجائے گھٹن تلخی اور تنگی ملتی ہے ۔ ایک دیہاتی شہر میں یوں محسوس کرتا ہے جیسے اسے قید خانے میں ڈال دیا گیا ہو صاف ہوا ملتی ہے نہ پرندے چہچہانے ہیں۔ انسان شہر کے پرتکلف ماحول ، بلند و بالا عمارتوں ، شورو غوغا ، ٹریفک کی بھیڑ بھیڑ سے گھبرا کر واپس دیہات کو بھاگنا چاہتا ہے ۔ دیہات میں کھیتوں ، فصلوں اور صبح کے دلکش اور حسین مناظر دل و دماغ کو سکون بخشتے ہیں۔
 دیہات میں تازہ سبزیاں اور پھل ، خالص گھی ، دودھ اور مکھن عام مل جاتے ہیں ۔ شہروں میں جو سبزیاں اور پھل وغیرہ دستیاب ہوتے ہیں یہ سب دیہات ہی کے مرہون منّت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہاتوں کی زندگی شہریوں کی زندگی کی نسبت زیادہ آسان اور سادہ ہوتی ہے اور صحت بھی اچھی ہوتی ہے ۔دیہاتی چونکہ محنت ومشقت کے عادی ہوتے ہیں اس لیے ان میں قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بیماریاں بھی بہت کم ہوتی ہیں ۔ شہروں میں کھانے پینے کی اشیاء ہر وقت ملتی رہتی ہیں ۔ خوراک مرغن ملتی ہے ۔ ملاوٹ شدہ خوراک نے انسان کو قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے ۔ دل کی بیماریاں ، بلند بلڈ پریشر ، شوگر اور کینسر وغیرہ شہروں میں ہی زیادہ پائی جاتی ہیں گاؤں کی فضا میں ایک خاص نوعیت کا سکون اور اطمینان اور خاموشی ہوتی ہے جو ذہن کو یکسوئی بخش کر عظیم تخلیقی کاموں کے لیے تیار کرتی ہے ۔ وہاں کی فضا میں سکون کی دولت ملتی ہے ۔ شہروں میں سکون نایاب ہے۔ اطمینان اور تسکین ناپید ہے ۔ گاؤں میں ایسا نہیں ، وہاں کا ماحول پرسکون ہوتا ہے ۔ حادثات کا ڈر بہت کم ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ وہاں پیدل زیادہ چلنا پڑتا ہے یہی ان کی اچھی صحت کا راز ہے ۔
 آج کل تو سڑکوں کی سہولتیں اور بجلی دیہات میں بھی میسر آگئی ہے اور پختہ عمارتیں بھی بننا شروع ہو گئی ہیں ۔ اس کے برخلاف تہذیب و تمدن کی دوڑ میں شہر سبقت لے گیا ہے ۔ وہاں کتب خانے ہیں ۔ پل پل کے حالات سے انسان باخبر رہتا ہے ۔ اخبارات آسانی سے میسر ہوتے ہیں جس سے سیاست کے اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی شب و روز سے واقفیت رہتی ہے ۔ تہذیب و تمدن کے نئے نئے طریقے اور ضابطے انسان شہر ہی سے سیکھتا ہے ۔ سکولوں ، دینی اور ٹیکنیکل درس گاہوں سے زیادہ شہری مستفید ہوتے ہیں ان کے مقابلے میں گاؤں میں عام طور پر ایک پرائمری یا زیادہ سے زیادہ مڈل سکول ہوتا ہے ۔ کسی کسی گاؤں میں ہائی سکول بھی مل جاتا ہے ۔ شہر میں تعلیم و ترقی کے مواقع بہت زیادہ ہیں ۔ یہاں پر سرکاری سکول اور کالجز کے علاوہ پرائیویٹ سکولز اور یونیورسٹیز بھی ہیں ۔ سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بھی شہروں میں ہوتے ہیں ۔ کاروبار ، ملازمت اور صنعت وحرفت کے بیشمار مواقع شہروں میں ہی ملتے ہیں ۔
سارے دن کی محنت ومشقت کے بعد دیہاتوں میں لوگ رات کو ایک چوپال یا کسی ڈیرے میں اکٹھے ہوتے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے ہیں ۔ گاؤں کے مسائل زیر بحث آتے ہیں ان کے حل کی تدابیر زیر غور آتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے مسائل لوگ خود ہی حل کر لیتے ہیں ۔ دیہاتوں میں اخلاقی فضا شہروں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہے ۔ دیہاتوں میں لوگ بڑوں کا ادب کرتے ہیں ۔ وہ مذہبی رجحان زیادہ رکھتے ہیں اور فریب کاری میں بہت کم ماہر ہوتے ہیں۔ تفریح کے لیے باغات سینما وغیرہ یہ تمام سہولیات صرف شہری علاقوں میں پائی جاتی ہیں یہاں پر بچوں کے کھیلنے کے لیے بڑے بڑے پارک بھی ہیں وہ کھیل کے میدان بھی ہیں ۔
چنانچہ جس طرح کچھ برائیاں اور اچھائیاں شہری زندگی میں ہیں اس طرح کچھ اچھائیاں اور خامیاں دیہاتی زندگی میں بھی موجود ہیں ۔100 فیصد معیاری تو کوئی جگہ بھی نہیں ہے ابھی اپنی اپنی پسند ہے کہ ان خوبیوں اور خامیوں سمیت ہمیں شہری زندگی پسند ہے یا دیہاتی زندگی ۔

No comments:

Post a Comment