شہید لالک جان



سب سے پہلے دنیا کے سب سے خطرناک محاذ پر آخری سانس تک لڑنے والے سپاہی حوالدار لالک جان شہید کی عظمت کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ حوالدار لالک جان ناردرن لائٹ انفنٹری کے بے باک لیڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کر سامنے آئے ۔انہوں نے وطن کی آن و بقا کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جن کی مثال شازو نادر ہی ملتی ہے ۔تا حال وہ نشان حیدر پانے والے سب سے آخری فوجی ہیں۔حوالدار لالک جان شہید یکم اپریل 1967ء کو پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان میں سلسلے کوہ ہندوکش کی وادی یاسین میں پیدا ہوئے ۔میٹرک کرنے کے بعد وہ فوج میں بھرتی ہوئے۔

معرکہ کارگل

مئ1999ء میں کارگل کے محاذ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال کافی کشیدہ تھی۔ٹائیگر ہلز کارگل کا یہ علاقہ پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے اہم تھا۔ بھارت اسی راستے سے پاکستان کی دفاعی لائن پر حملہ کرتا آ رہا تھا۔ پاک فوج سخت محنت کے بعد ٹائیگر ہلز پر قابض ہو چکی تھی جبکہ بھارت یہاں دوبارہ اپنے قدم جمانا چاہتا تھا۔ اس کوشش میں بھارت کی کئی بٹالین تباہ ہو چکی تھیں ۔ صوبے دار سکندر کی سربراہی میں 11 جاں بازوں نے بھارت کو بار بار شکست سے دوچار کیا۔ یہ یکم جولائ 1999ء کی ایک سرد ترین رات تھی دشمن نے اچانک سےٹائیگر ہلز پر حملہ کر دیا تھا جسے بہادر جان بازوں نے بڑی دلیری سے ناکام بنایا۔اس حملے کے بعد صوبے دار نے اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور کہا ساتھیوں اگر سورج طلوع ہونے سے قبل بھارتی مورچوں کے آگے بارودی سرنگیں  بچھا دی جائیں تو دشمن پیش قدمی  کے قابل نہیں رہے گا ۔ لالک جان نے یہ ذمہ داری اپنے سر لے لی اور بارودی سرنگوں کا تھیلا اٹھا کر  پہاڑوں میں گم ہو گیا۔ تقریبا ایک گھنٹے میں ہی لالک جان نے بارودی سرنگوں کا ایک ایسا جال بچھایا جو بعد اذاں دشمن کی تباہی کا باعث بنا ۔ جیسے ہی دشمن نے ٹائیگر ہلز کی طرف پیش قدمی شروع کی بارودی سرنگیں لگاتار پھٹنا شروع ہو گئیں ۔ پھر سے دشمن کی پیش قدمی رک گئی۔ چھ جولائی1999ءکو دشمن ایک بار پھر ٹائیگر ہلز پر قبضے کے لیے اگے بڑھا۔ شدید لڑائی ہوئی اس معرکے میں لالک جان کےسات ساتھی شہید ہو گئے جبکہ لالک جان شدید زخمی ہوئے ۔اپنے زخموں کے باوجود لالک جان کے تین ساتھی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مختلف مقامات پر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ انہوں نے دشمن کے اس ناپاک ارادے کو نا کام اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ۔

شہادت

 سات جولائی 1999ءکو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ پورا دن گولوں کی برسات ہوتی رہی اس رات دشمن نے پاکستانی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کیا رات بھر ٹائیگر ہلز پر بارود کی بارش ہوتی رہی۔ اس حملےمیں لالک جان کے باقی تین ساتھی بھی شہید ہو گئے۔ ایسے میں لالک جان نے شدید زخمی حالت میں بھی پہلے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے اس وقت تک دشمن کو الجھائے رکھا جب تک کمپنی کمانڈر اپنے ساتھی سمیت نہیں پہنچ گئے۔ کمپنی کمانڈر نے بھارتی فوج کے ایک ایسے مورچے کا سراغ لگایا جہاں سے مسلسل گولہ باری ہو رہی تھی لالک جان نے مشورہ دیا کہ اگر دشمن کے اس مورچے کو بارود سے اڑا دیا جائے تو پاکستان کی فتح یقینی ہے۔ لالک جان نے اپنے زخموں کی پرواہ کیے بغیر بارود کا تھیلا اٹھایا اور اس مورچے کی طرف چل دیے۔ اس کے بعد لالک جان نے جو کچھ کیا اس کا اندازہ دشمن کے مورچے کی خاموشی سے لگایا جا سکتا ہے ۔ تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد  کمپنی کمانڈر نے لالک جان کی تلاش کے لیے کچھ جوانوں کو بھیجا ۔ یہ جوان لالک جان کی تلاش میں دشمن کے تباہ شدہ مورچے میں پہنچے۔ جہاں سے انہوں نے شہید لالک جان کا جسد خاکی اٹھایا اور واپس آ گئے ۔

نشان حیدر 

  حوالدار لالک جان نے جس جرأت  مندی کا ثبوت دیا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اس بہادری کے صلے میں انہیں 13اگست 1999ء کو سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیا گیا۔ل لالک جان کی بہادری اور قادر ہوسٹ کے زبردست دفاع کا اعتراف دشمن نے اپنے الفاظ میں کچھ اس طرح کیا کہ کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی اور آخری گولی تک بھرپور مقابلہ کیا ۔

No comments:

Post a Comment