ابن الہیثم






آج کا دور سائنسی ترقی کا دور ہے۔نئی نئی چیزیں ایجاد ہو رہی ہیں۔طب کی دنیا میں کئی لاعلاج بیماریوں کا علاج دریافت کیا جا چکا ہے۔انسان چاند پر قدم رکھنے کے بعد خلا میں سفر کر رہا ہے۔ان سب میں سائنس دانوں کی محنت اور تحقیق شامل ہے۔ان سائنس دانوں میں سے زیادہ تر کا تعلق مغرب سے ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ان مسلمان سائنسدانوں کو بھول چکے ہیں جنہوں نے زمانہ وسطی میں اس سائنسی ترقی کی بنیاد رکھی۔ان بڑے بڑے سائنس دانوں میں ایک نام ابن الہیثم کا ہے۔
آپ کا پورا نام تو" ابو علی الحسن بن الہیثم" ہے لیکن آپ "ابن الہیثم "کے نام سے مشہور ہیں۔انہیں مغرب میں" الہیزن" کے نام سے جانا جاتا ہے اور ہسپانوی زبان میں انہیں "الہیسن" بھی پکارا جاتا ہے۔آپ 965ءمیں عراق کے تاریخی شہر بصرہ میں پیدا ہوئے۔آپ نے تعلیم بصرہ اور بغداد میں حاصل کی۔یہ دونوں شہر اس زمانے میں علوم و فنون کا مرکز تھے۔آپ کو بچپن سے ہی غور و فکر کا شوق تھا۔پڑھائی میں خوب دلچسپی لیتے تھے۔آپ نے طبیعیات، ریاضی، ہندسیات، فلکیات اور علم الادویات میں مہارت حاصل کی۔ریاضی،طبیعیات،طب،منطق ،شاعری، موسیقی اور علم الکلام آپ کے پسندیدہ موضوعات تھے۔

حالات زندگی

مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے بعد آپ مصر چلے گئے ۔ مصر میں ان دنوں فاطمی خلیفہ"حاکم" کی حکومت تھی ۔ 996ء میں آپ فاطمی خلافت مصر کے دربار سے منسلک ہو گئے ۔ انہوں نے دریائے نیل میں سیلاب پر قابو پانے کا منصوبہ بنانے کا کام ابن الہیثم کے سپرد کیا ۔ آپ نے دریائے نیل پر بند باندھنے کاایسا منصوبہ تیار کیا جس سے نیل کا پانی آبپاشی کے لیے سال کے 12 مہینے دستیاب ہو سکتا تھا۔منصوبہ یہ تھا کہ دریائے نیل پر اسوان کے قریب تین طرف بند باندھ کر ایک ڈیم بنایا جائے جس سے برسات کے موسم میں زائد پانی ڈیم میں بھر جائے گا اور دریا میں طغیانی نہیں آئے گی اور خشک موسم میں جب دریا کا پانی کم ہوگا تو اس ڈیم میں موجود پانی سے اس کمی کو پورا کیا جائے گا ۔ ابن الہیثم نے نیل کے طول و عرض کا سروے شروع کیا ۔ اس کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ یہ کام ان کے زمانے کے امکانات کے حساب سے ناممکن ہے ۔ لیکن بعد میں جدید مصر میں دریائے نیل پر اسوان کے مقام پر جو ایک عظیم ڈیم تعمیر ہوا وہ ان کے منصوبے کے عین مطابق بنایا گیا ہے ۔

علم ریاضی

ابن الہیثم ایک عظیم ریاضی دان تھے ۔ ریاضی میں ان کے زمانے کا کوئی بھی سائنسدان ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا تھا ۔ آپ ہمیشہ کام میں لگے رہتے تھے ۔وہ ان پہلے عربی ریاضی دانوں میں تھے جنہوں نے بڑے سوالوں کو حل کرنا سکھایا۔آپ نے ہندسوں پر کافی کام کیا ۔ انہوں نے ہندسوں کی مدد سے ایک تہائی سوالوں کے جواب دیے ۔ یہ وہ سوال تھے جو ارشمیدس نے 1200 سے زیادہ سال قبل پوچھے تھے ۔ آپ نے اقلیدس کے تھیورم کے مخصوص سوالوں پر بھی تحقیق کی ۔

کتاب المناظر

الازہر یونیورسٹی کے قیام کے دوران ابن الہیثم نے سائنسی تحقیقات کیں اور علم نوریات ، ریاضی ، طبیعیات اور فلسفہ میں بہت کام کیا ۔ روشنی سے متعلق کتاب" کتاب المناظر" اسی کی شاہکار تصنیف ہے ۔ اس کتاب کی وجہ سے ان کو اسلامی دور کے نامور سائنسدانوں میں بلند مقام ملا ۔ ان کی کتاب "کتاب المناظر" بصریات کی دنیا میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔ ابن الہیثم وہ پہلے سائنسدان تھےجنہوں نے درست طور پر بیان کیا کہ ہم چیزیں کیسے دیکھ پاتے ہیں ۔ انہوں نے افلاطون اور دوسرے سائنس دانوں کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر  اشیاء پر پڑتی ہے ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں ۔ ان کی کتاب "کتاب المناظر" بصریات کی دنیا میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کی روشنی کے حوالے سے دریافتیں جدید سائنس کی بنیاد بنیں ۔ مثال کے طور پر بطلیموس کا نظریہ تھا کہ دیکھنا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب شعاع آنکھ سے کسی جسم سے ٹکراتی ہے ۔ بعد میں آنے والے سائنس دانوں نے اس نظریے کو من و عن قبول کیا مگر ابن الہیثم نے کتاب المناظر میں اس نظریہ کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ شعاع آنکھ سے نہیں بلکہ کسی جسم سے دیکھنے والے کی آنکھ سے ٹکراتی ہے ۔

روشنی کا قانون

روشنی کے بارے میں ابن الہیثم کا کہنا ہے کہ نور ہمیشہ خط مستقیم میں سفر کرتا ہے ۔ اس کے لیے ذریعے یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ بغیر سہارے کے سفر کرتا ہے ۔ ابن الہیثم نے روشنی کا انعکاس اور روشنی کا انعطاف یعنی مڑنا بھی دریافت کیا جو کہ آج بھی سائنس کی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے ۔ انہوں نے دلائل اور تجربات سے ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی باہر نہیں نکلتی بلکہ حقیقت میں جب روشنی کسی جسم پر پڑتی ہے تو کچھ کر نیں پلٹ کر فضا میں پھیل جاتی ہیں ۔ ان میں سے بعض شعاعیں دیکھنے والے کی آنکھ میں داخل ہو جاتی ہیں ۔ جس سے وہ شے نظر آتی ہے ۔ روشنی کے سلسلے میں ابن الہیثم نے ایک اور تجربہ کیا اس تجربے کی بنیاد پر سائنس دانوں نے آلہ تصویر ایجاد کیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی تاریک کمرے میں دیوار کے اوپر والے حصے سے ایک باریک سوراخ کے ذریعے سورج کی روشنی گزاری جائے اور اس کے بالمقابل اگر پردہ لگا دیا جائے تو اس پر جن جن اشیاء کا عکس پڑے گا وہ الٹا ہوگا ۔

بصریات

بصریات کے میدان میں تو اسلامی سائنسی تاریخ کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ ابن الہیثم نے ہی یونانی نظریہ بصارت کو رد کر کے دنیا کو جدید نظریہ بصارت سے روشناس کرایا اور ثابت کیا کہ روشنی آنکھ سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ مختلف اجسام کی طرف سے آتی ہے۔ ابن الہیثم نے آنکھ کی جو تشریح کی ہے وہ موجودہ زمانے کی تحقیقات کے مطابق بالکل صحیح اور مکمل ہے۔ انہوں نے آنکھ کے ہر حصے کے کام کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس میں اج کی جدید سائنس بھی رتی برابر تبدیلی نہیں کر سکتی۔ ابن الہیثم نے آنکھ کا دھوکہ یا وہم بھی دریافت کیا جس میں مخصوص حالات میں نزدیک کی چیزیں دور اور دور کی چیزیں نزدیک نظر آتی ہیں۔

تحقیق و تصانیف 

آپ نے اپنی پوری زندگی کو تحقیق کے لیے وقف کر دیا ۔ وہ اپنی تحقیق و تجربات کو قید تحریر میں لائے تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں ۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں ان کی تحریر کردہ تصانیفِ کی تعداد 237 ہے جن میں سے سب سے نمایاں کتاب "کتاب المناظر" ہے ۔ جس کا بہت سی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا ہے ۔ آپ کی کتابیں مغربی دنیا میں صدیوں تک پڑھائی جاتی رہی ہیں ۔ اس عظیم مسلمان سائنسدان کا انتقال 1040ء میں مصر کے شہر قاہرہ میں ہوا۔


No comments:

Post a Comment