اسٹیفن ہاکنگ




"One, remember to look up at the stars and not down at your feet.Two, never give up work.Work gives you meaning and purpose and life is empty without it."

یہ الفاظ ایسے شخص کے ہیں جو کہ اپنی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے دور حاضر کا آئنسٹائن اور افلاطون بھی مانا جاتا ہے۔ اس عظیم ماہر فلکیات، طبیعیات دان اور ریاضی دان کا نام اسٹیفن ولیم ہاکنگ ہے۔ ان کو آئنسٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ سٹیفن بیسویں اور اکیسویں صدی کے معروف طبیعیات دان تھے۔ اسٹیفن ہاکنگ 8 جنوری 1942ء کو آکسفورڈ شائر برطانیہ میں پیدا ہوئے۔سکول کے زمانے میں آپ کی ذہنی صلاحیت درمیانی تھی۔ اساتذہ کو ہمیشہ شکایت رہتی کہ آپ سکول کا کام توجہ سے نہیں کرتے۔ آپ کے والد آپ کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ سکول کے زمانے میں نہ تو آپ کو پڑھائی سے دلچسپی تھی اور نہ ہی کوئی کھیل کود کا شوق تھا۔ لیکن آپ کو عجیب و غریب چیزیں بنانے کا بے حد شوق تھا۔ پرانی مشینوں کو کھولتے اور ان کو دوبارہ بند کرنے کی کوشش کرتے یا پھر کوئی نئی چیز بنانے کی کوشش کرتے۔پڑھائی میں ریاضی کے مضمون میں بہت اچھے تھے۔ ریاضی کے مشکل سے مشکل سوال چند سیکنڈز میں حل کر لیتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ آپ کی دلچسپی فزکس کی طرف منتقل ہوئی۔ انہوں نے آکسفورڈ سے طبیعیات کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے یونیورسٹی میں فزکس میں اول درجے کے اعزاز کے ساتھ ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں کیمبرج یونیورسٹی سے فلکیات کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی۔

بیماری

ان کی زندگی کا ایک اور منفرد اور المناک پہلو ایک عجیب بیماری بھی ہے۔وہ ایم ایس سی تک درمیانے درجے کے طالب علم، سائیکلنگ، فٹبال اور کشتی رانی کے شوقین تھے۔ روزانہ پانچ کلومیٹر دوڑ معمول تھی۔ 1963ء میں جب اسٹیفن کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے تو ایک دن سیڑھیوں سے پھسل گئے۔ جس کے نتیجے میں وہ ایک پیچیدہ بھی بیماری موٹر نیوران ڈیزیز کا شکار ہوئے۔ اس بیماری میں انسان کے جسم کے مختلف حصے ایک ایک کر کے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ انسان اپنی آنکھوں سے خود کو آہستہ آہستہ موت کی وادی میں اترتا دیکھتا ہے۔اس وقت ان کی عمر محض 21 برس تھی۔اسٹیفن ہاکنگ کہتا تھا ،
"My expectations were reduced to zero when I was 21 everything since then has been a bonus."
 بیماری نے سب سے پہلے آپ کی انگلیاں پھر ہاتھ، بازو، بالائی دھڑ، پاؤں، ٹانگیں متاثر کیں اور پھر ان کی زبان بھی  مفلوج ہو گئی۔ ان سب کے باوجود وہ دماغی طور پر صحت مند رہے اور اپنا کام جاری رکھا۔ وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پہ منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے۔ ان کی یہ بیماری ان کے تحقیقی عمل کو نہ روک سکی ۔1985ء میں نمونیا کے باعث سٹیفن ہاکنگ قریب المرگ ہو گئے اور انہیں بچانے کے لیے کی گئی سرجری کی وجہ سے ان کی آواز مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ لیکن انہوں نے کمپیوٹر کی مدد سے اپنا پروجیکٹ جاری رکھا۔ انہوں نے ویل چیئر کا استعمال کیا اور وہ وائز سنتھیازرزکے بغیر بولنے کے قابل نہیں تھے۔اسی کمپیوٹر کی مدد سے اسٹیفن نے سینکڑوں سائنسی مقالہ جات اور کئی کتابیں بھی لکھیں۔

بلیک ہول

سٹیفن ہاکنگ کو غیر معمولی ذہانت کی بدولت آج کے آئنسٹائن کے ہم پلہ سائنسدان قرار دیا جا رہا ہے۔ اس عظیم سائنسدان نے کائنات میں ایک ایسا بلیک ہول دریافت کیا جس سے روزانہ نئے سیارے جنم لیتے ہیں۔ اس بلیک ہول سے ایسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو کائنات میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا سبب بھی ہیں۔ ان شعاعوں کو سٹیفن ہاکنگ کے نام کی مناسبت سے "ہاکنگ ریڈیی ایشن" کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارے ارد گرد صرف ایک کائنات نہیں بلکہ بہت سے کائناتیں ہیں اور ان میں سورج، چاند، ستارے سب موجود ہیں۔ لیکن ایک دن وہ کائنات سکڑنا شروع کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ سکڑتے سکڑتے کسی بلیک ہول میں مر جاتی ہے۔ پھر اس بلیک ہول میں ایک نئی کائنات پیدا ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ کب سے چل رہا ہے اور کب تک چلتا رہے گا کسی کو معلوم نہیں۔ 1976ء میں ہاکنگ نے اس بات کو بھی ثابت کر دیا کہ بلیک ہول مکمل طور پر بلیک نہیں ہوتے وہ بتدریج شعاعوں کا اخراج کر رہے ہیں۔ بلیک ہول پر تحقیق سٹیفن کا اب تک کا سب سے شاندار کام ہے۔

ٹائم مشین

ٹائم مشین سے متعلق اہم معلومات اور وقت کی تعریف بھی سٹیفن کی بہترین کاوش ہے۔ انہوں نے " بریف ہسٹری آف ٹائم "کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کو ایک انقلابی حیثیت حاصل ہے۔ یہ آسان الفاظ میں لکھی گئی ایک نہایت اعلی پائے کی کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ وقت کب پیدا ہوا ؟ اس میں سفر کرنا ممکن نہیں ہے۔ گزرتے وقت کو کیوں روکا نہیں جا سکتا، ماضی حال اور مستقبل کیا ہے؟کیوں مستقبل سے آیا ہوا کوئی بھی مسافر موجود نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وقت کا سفر اتنا آسان ہوتا تو مستقبل سے آئے ہوئے سیاح اپنے کیمروں کے ساتھ ہمیں تنگ کرنے کے لیے یہاں موجود ہوتے اور ہمارے ساتھ تصاویر کھنچوا رہے ہوتے۔
"If time travel is possible where are the tourist from the future"

خلا کا سفر

سٹیفن نے اپنے لیکچرز میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کرہ ارض پر نسل انسانی ختم ہو جائے گی۔لہذا انسانوں کو اپنی بقا کے لیے دوسرے سیاروں پر نقل مکانی کرنا ہوگی۔ انسانوں کو اپنے رہنے کے لیے قریبی ستاروں کے نظام تک بھی جانے کا سوچنا ہوگا۔ ان کے خیال کے مطابق انسانوں کو یہ زمین چھوڑ دینی چاہیے۔ خلا میں جانے سے ہم انسانیت کے مستقبل کو مکمل تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ 2007ء میں سٹیفن ہاکنگ دونوں بازوؤں اور ٹانگوں سے مفلوج پہلے شخص بن گئے جنہوں نے بے وزنی کی حالت کا تجربہ کیا۔ جب انہوں نے کشش ثقل کی عدم موجودگی والے خصوصی طور پر تیار کرتا جہاز میں سفر کیا تھا۔ ان کا اس وقت کہنا تھا کہ میرے خیال میں اگر نسل انسانیت خلا میں نہیں جاناچاہتی تو اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

تصانیف

A brief History of Time  (1988)
The Universe in a Nutshell  (2001)
On the Shoulders of Giants (2002)
My Brief History  (2013)
Brief Answers to the Big Questions  (2018)
Black Holes and Baby Universes

وفات

سٹیفن ہاکنگ زندگی کے آخری دنوں میں بھی عالمی شہرت کی بلندیوں پر تھے۔ تب بھی آپ مختلف یونیورسٹیز میں لیکچر دے رہے تھے۔ 14 مارچ 2018ء کو سٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ آپ کی زندگی سائنس دانوں، عوام اور بالخصوص معذور افراد کے لیے عزم و ہمت اور حوصلے کی نادر مثال ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

No comments:

Post a Comment