دوستی خدا کی ایک خاص نعمت ہے ۔ یہ ہر کسی کو میسر نہیں ہے ۔ انسان کو دنیا میں رہنے کے لیے بہت سے رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان میں سے ایک رشتہ دوستی کا ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے ۔ دنیا میں دشمن بھی ہوتے ہیں اور دوست بھی پہلی جنس ارزاں ہے اور دوسری گراں اور کم یاب بھی ۔ اگر آپ ارد گرد کے لوگوں پر نظر دوڑائیں تو ہر کوئی آپ کا دوست نہیں ہو سکتا اور نہ ہی آپ ہر کسی کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں ۔ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو اچھے دوست میسر ہوتے ہیں ۔ وہ باتیں اور مسائل جن کا ذکر ہم اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ نہیں کر سکتے ، وہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔ دوستی کا رشتہ بڑا خوبصورت ہوتا ہے ۔ بڑا پاک ہوتا ہے اور بہت ہی منفرد بھی ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے جو کسی سے بنا مطلب کے کسی کا حسب نسب جانے بغیر ،کسی کی مالی حیثیت دیکھے بغیر قائم ہو جاتا ہے جس میں دنیاوی فائدوں کی ملاوٹ نہیں ہوتی ۔
دنیا کے قاعدے کے مطابق میرے بھی کچھ دوست ہیں مگر ہر دوست کا مقام الگ ہے ۔ ہر ایک کے ساتھ دوستی کا درجہ مختلف ہے ۔ آج کے دور میں کہا جاتا ہے کہ کوئی کسی کا دوست نہیں ہے ۔ اکثر مطلب کے یار ہیں ۔ سچے دوست تو ایسے ہوتے ہیں جو آپ پر جان بھی قربان کرنے کو تیار ہوتے ہیں ۔ زندگی کے اچھے اور برے وقت میں دوستی برابر نبھاتے ہیں ۔ آج کل لوگ آسانی سے دوست بنا لیتے ہیں پھر مشکل وقت میں ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ ایسے لوگ صرف مفاد کی خاطر کسی شخص سے دوستی کرتے ہیں پھر اپنا کام نکل جانے کے بعد اسے نظر انداز کر دیتے ہیں ۔
میرے کچھ دوست ایسے ہیں جن کے ساتھ دوستی اول درجے کی ہے ۔ جو میرے اچھے برے وقت میں ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ ہر مشکل میں کام آتے ہیں۔ یہی دوست زندگی کا حاصل ہیں ۔ ایسے دوست ہی زندگی کی اصل خوبصورتی ہیں۔ میں بھی ان کے لیے ہر وقت حاضر ہوتا ہوں جب بھی ان کو میری ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ صرف کام کی حد تک دوستی ہے ۔ یعنی جب ان سے کوئی کام پڑا ہو تو دوست بنا لیا ورنہ ان سے کبھی رابطہ نہ رکھنا۔ ایسی دوستی دراصل دوستی کم مفاد پرستی زیادہ ہے ۔ لیکن یہ وقت کا تقاضا ہوتی ہے ۔ جیسا کہ میں ان سے کام کے وقت دوستی کرتا ہوں اور وہ بھی مجھے بس اپنے کام کے لیے یاد رکھتے ہیں ۔ اپنا کام نکل جانے کے بعد مجھے بھول جاتے ہیں ۔
ہم آج جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں دوستوں کی ایک نئی قسم ایجاد ہو گئی ہے ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں ۔ انٹرنیٹ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والے لوگوں کے لیے ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کا زبردست ذریعہ بن چکا ہے ۔ دوستیاں بنانے کے لیے کسی سکول، کالج اور یونیورسٹی جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ گھر بیٹھے جتنے چاہے دوست بنا لیں ۔ دوست بنانے کے لیے بہت سی ایپس کا استعمال ہوتا ہے جن میں فیس بک کا استعمال سب سے زیادہ ہے ۔ دنیا میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد 50 کروڑ ہو گئی ہے ۔ یعنی دنیا کی آبادی کے تقریبا 10 فیصد لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں ۔ اب لوگ محض کمپیوٹر یا موبائل کے ذریعے گھر بیٹھے کسی بھی انجان شخص کو دوست بنا لیتے ہیں ۔ میرے بھی کئی فیس بک فرینڈز ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ اتنے سارے دوستوں کے ساتھ آپ دوستی کا تقاضا پورا نہیں کر سکتے ۔ نہ تو آپ مسلسل رابطے میں رہ سکتے ہیں اور نہ ہی مشکل وقت میں کام آ سکتے ہیں اور دوسری بات کہ انٹرنیٹ پر اس طرح کی دوستی رکھنا اور دوستی کا جانچنا بہت مشکل کام ہے ۔
سچی دوستی نبھانے کے لیے اعتماد بھروسہ اور وقت کی ضرورت ہے ۔ آج کے دور میں لوگوں کے پاس وقت نہیں ہے کہ ایک دوسرے کو جانچیں، پرکھیں پھر دوست بنائیں ۔ بہرحال میں دوستی کے معاملے میں ہمیشہ مالدار رہا ہوں ۔ مجھے ہمیشہ سکول، کالج اور یونیورسٹی ہر جگہ اچھے دوست ملے ۔ ان میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ ہمیشہ کا تعلق ہے ۔ آج کے مصروف دور میں بھی ہم ایک دوسرے کے لیے وقت نکالتے ہیں غم و خوشی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ۔ یہی دوست زندگی کا اصل سرمایہ ہیں ۔

No comments:
Post a Comment