ایک تھا بادشاہ




ہزاروں سال پہلے کی بات ہے ڈنمارک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام Canute تھا۔ وہ بہت عقلمند تھا۔ اس کے درباریوں کا خیال تھا کہ وہ اب تک کا سب سے طاقتور بادشاہ ہے۔ وہ ہر وقت اس کی تعریف کرتے رہتے۔ وہ ہمیشہ کہتے کہ "اے عظیم بادشاہ" آپ اس دنیا کے سب سے طاقتور بادشاہ ہو۔ بادشاہ ان کی چاپلوسی سے تنگ آ گیا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ان کو سبق سکھائے گا۔ ایک دن درباری پھر بادشاہ کی چاپلوسی میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ "اے عظیم بادشاہ" آپ دنیا کے سب سے عقلمند بادشاہ ہو، آپ سب کچھ کر سکتے ہو، آپ اتنے عظیم ہو کہ سمندر بھی آپ کی بات مان لے گا۔ بادشاہ کافی عرصے سے ان کی میٹھی باتیں برداشت کر رہا تھا لیکن اب حد ہو گئی تھی۔ اب وہ درباریوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ وہ کتنے اندھے ہیں۔ بادشاہ نے درباریوں سے کہا کہ وہ اس کا تخت ساحلِ سمندر پر لے جائیں اور مجھے لہروں کو حکم دیتے ہوئے دیکھیں۔ درباریوں نے اس کی بات فوراً مان لی اور کہا کہ ہم آپ کو ساحلِ سمندر لے جائیں گے اور آپ کو لہروں کو روکتا ہوا دیکھیں گے۔ 

درباری بادشاہ اور اس کا تخت ساحلِ سمندر لے گئے اور احترام کے ساتھ اس کو ریت پر رکھ دیا۔ اس وقت سمندر میں کافی اونچی لہریں پیدا ہو رہی تھیں اور ساحل کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ بادشاہ نے اونچی لہروں کو حکم دیا کہ وہ ساحل کی طرف نہ آئیں۔ درباری کھڑے رہے، دیکھتے رہے اور انتظار کرتے رہے۔ انہیں امید تھی کہ سمندر میں طغیانی کچھ کم ہوتی نظر آئے گی۔ لیکن اونچی لہروں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا۔ درباری حیران رہ گئے جب لہریں ان کے جوتوں تک پہنچ گئیں۔ ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ پانی ان کے ٹخنوں تک پہنچ گیا تھا۔ جلد ہی پانی ان کے گھٹنوں تک پہنچ گیا اور تخت کی ٹانگیں بھی پانی میں تھیں۔ اب اس بادشاہ نے درباریوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے احمق لوگو تم نے دیکھا کہ کوئی بادشاہ اتنا طاقتور نہیں ہے جو لہروں کو حکم دے سکے۔ درباری بہت شرمندہ ہوئے اور اپنی بھیگی ٹانگوں اور ٹوٹے ہوئے جوتوں کو دیکھتے رہے۔ اب انہیں سمجھ آگئی تھی۔ وہ خاموشی سے بادشاہ اور اس کے تخت کو دربار میں واپس لے گئے اور خوشامد سے توبہ کر لی۔ 

No comments:

Post a Comment