چائنہ کی لوک کہانی

 

                      

بہت پہلے چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں "ہو" نام کا ایک نوجوان رہتا تھا ۔ وہ ایک فارم ہاؤس پر کام کرتا تھا ۔ وہ کسان کی گائیوں کی دیکھ بھال کرتا ، مرغیوں کو دانہ ڈالتا ، گودام صاف کرتا اور کسان کے کھیت میں بیج بھی بوتا تھا ۔ کسان ایک امیر آدمی تھا لیکن لالچی بھی تھا ۔ وہ ہو کو اس کے کام کا بہت کم معاوضہ دیتا تھا جس سے صرف وہ کھانے کے لیے باسی روٹی ہی خرید سکتا تھا ۔ دن بدن ہو کمزور ہوتا گیا ۔ ہو کو تصویریں بنانے کا بہت شوق تھا ۔ وہ صرف اس وقت خوش ہوتا جب وہ تصویریں بنا رہا ہوتا ۔ اس نے چٹانوں پر چاک سے خوبصورت تصویریں بنائیں لیکن اس کی خواہش تھی کہ وہ پینٹ برش سے تصویریں بنائے ۔ " کاش میرے پاس پینٹ برش ہوتے "وہ سوچتا لیکن ہو کے پاس اس کو خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے ۔ ایک شام جب ہو کھانا کھا رہا تھا ، ایک بوڑھا آدمی گلی میں سے گزرا ۔ بوڑھا آدمی بہت کمزور دکھائی دے رہا تھا ۔ ہو کو لگا کہ وہ بوڑھا آدمی بھوکا ہے اگرچہ اس کو خود بھی بھوک لگی ہوئی تھی لیکن ہو نے اس کو اپنی روٹی دے دی ۔ بوڑھے آدمی نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کو ایک سنہری پینٹ برش تحفے کے طور پر دیا ۔ 

بوڑھا آدمی چلا گیا اور ہو بھول ہی گیا کہ اسے کتنی بھوک لگی ہے ۔ اسے اب صرف کچھ رنگوں کی ضرورت تھی ۔ ہو کھیتوں کی طرف روانہ ہو گیا اور اپنی بالٹی پودوں ، پھلوں ، پتھروں اور کیچڑ سے بھر لایا ۔ ہو اپنی بالٹی جھونپڑی میں لے گیا جہاں وہ رہتا تھا ۔ اس نے پودوں ، پھلوں ، پتھروں اور کیچڑ کو فرش پہ ڈال دیا ۔ ہو نے سب کو پیس لیا ۔ پھلوں سے سرخ اور جامنی رنگ کا پینٹ بن گیا ۔ پھولوں اور پتوں سے سبز ، پیلا اور گلابی رنگ کا پینٹ بن گیا ۔ پتھروں کے ذرے نیلے اور گولڈن رنگ کے ہو گئے ۔ کیچڑ والی مٹی بھوری اور کالی ہو گئی ۔ جلد ہی ہو نے قوس قزح کے ہر رنگ کا پینٹ بنا لیا تھا ۔ ہو نے پیلے رنگ میں برش کو ڈبویا اور جھونپڑی کی دیوار پر ایک چڑیا بنائی ۔ ہو نے اس کے پنکھوں میں جامنی اور سرخ رنگ کا پینٹ کیا ۔ اچانک وہ پرندہ حقیقت میں بدل گیا ۔ وہ پرندہ کھڑکی سے باہر آسمان کی طرف اڑ گیا ۔ "یہ ایک جادوئی برش ہے " ہو گھبرا کر بولا ۔ ہو یہ سب دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ پھر اس نے گائیوں کے کھانے کے لیے گھاس کی ایک گٹھڑی پینٹ کی ۔ وہ گھاس اصلی ہو گئی ۔ سخت گرمی میں دریا کا پانی خشک ہو گیا تھا ۔ ہو نے اپنا پیٹ برش نیلے رنگ میں ڈبویا اور ایک دریا بنا دیا ۔ وہ دریا بھی حقیقت میں بدل گیا ۔ گاؤں کے لوگ چمکتے ہوئے پانی کی طرف بھاگے اور خوب پانی پیا ۔ بچوں نے تیراکی کی اور ایک دوسرے پر پانی پھینک کر سب نے خوشی کا اظہار کیا ۔ ہو نے جب کچھ مچھلیوں کو پینٹ کیا تو وہ بھی حقیقت بن گئیں اور پانی میں کود پڑیں ۔ یہ دیکھ کر بھوکے ماہی گیر اپنی مچھلی پکڑنے کی سلاخیں لینے کے لیے گھروں کی طرف بھاگے ۔

 ہو اپنے فارم ہاؤس میں واپس چلا گیا ۔ ہمیشہ کی طرح کسان ایک زبردست دعوت اڑا رہا تھا ۔ وہ کھاتا رہا اور اس کے ملازم اور بچے اس کو دیکھتے رہے ۔ یہ سب دیکھ کر ہو اداس ہو گیا ۔ ہو نے اپنا پینٹ برش اٹھایا اور جادو نے اپنا کام کر دیا ، جلد ہی سب کے لیے کھانا تیار تھا ۔ نیک ہو نے ہمیشہ لوگوں کی مدد کے لیے پینٹ برش استعمال کیا ۔ اس نے  گاڑی کا پہیہ ، برتن اور ہر ایک کے لیے نئے کپڑے پینٹ کیے ۔ لوگوں نے اس کا شکریہ ادا کیا ۔ لیکن ہو کے نیک کام جلد ہی ختم ہو گئے ۔ کسان کو اس کا پتہ چل گیا اور اس نے وہ جادوئی پینٹ برش ہو سے چھین لیا ۔ لالچی کسان نے سوچا کہ یہ پینٹ برش اسے دنیا کا سب سے امیر آدمی بنا دے گا ۔ اس نے اس پینٹ برش سے سونا پینٹ کیا لیکن کچھ نہیں ہوا ، اس نے زیورات پینٹ کیے لیکن کچھ بھی نہیں ہوا ۔ کسان ہو پر چیخا اور اسے کہا کہ وہ اس کے لیے سونے کا پہاڑ پینٹ کرے ۔ ہو نے جادوئی برش اٹھایا اور کام پر لگ گیا ۔ اس نے نیلے رنگ کا ایک سمندر بنایا اور اس کے جزیرے میں چمکتا ہوا سونے کا پہاڑ پینٹ کیا ۔ وہ سونا اور جزیرہ حقیقت بن گئے ۔ کسان نے غصے میں کہا کہ وہ یہ سونا کیسے حاصل کر سکتا ہے کیونکہ اس کو تو تیرنا بھی نہیں آتا ۔ پھر ہو نے ایک بحری جہاز پینٹ کیا ۔ وہ بھی حقیقت بن گیا ۔ کسان جہاز پر سوار ہو گیا ۔ کسان نے جہاز جیسے ہی جزیرے کی طرف بڑھایا ، ہو نے جادوئی برش سے طوفان پینٹ کیا ۔ طوفان حقیقت بن گیا اور جہاز کو کسان سمیت بہت دور بہا کر لے گیا جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں آسکتا تھا ۔ گاؤں کے لوگوں نے خوشی سے گانا گایا ۔  اس دن سے گاؤں کے لوگ خوشی خوشی رہنے لگے ۔ وہ سب لالچی کسان کی طرح ہرگز نہ تھے ۔ ہو نے بہت سی تصویریں بنائیں لیکن وہ تب ہی حقیقت بنتی تھیں جب کوئی بھوکا یا اداس ہوتا ۔ جادوئی پینٹ برش کو معلوم تھا کہ اس کا جادو کب کام کرتا ہے ۔

No comments:

Post a Comment