اردو محاورے ( ف اور ق )



 فرو ہونا:

دبنا ، ختم کرنا : علی نے اپنی عقل و دانش کے بل بوتے پر اپنے ہر خوف کو فرو کیا۔

فراٹے بھرنا:

تیزی سے جانا : بس فراٹے بھرتی جا رہی تھی ، امید تھی کہ ہم جلد ہی لاہور پہنچ جائیں گے۔

فروکش ہونا:

اترنا ، ٹھہرنا: پھپھو جان جیسے ہی گھر میں فروکش ہوئیں ، سالگرہ کی تقریب کا آغاز کردیا گیا۔

فاتحہ پڑھنا:

کچھ نہ ہو سکنا : اس فیس بک کی دوستی کا یہی انجام ہونا تھا اب اس پر فاتحہ پڑھ لو اور پڑھائی پر توجہ دو۔

قاضی گلہ نہ کرے گا:

کسی کو اعتراض نہ ہوگا : جائیداد کے معاملات پر جب دونوں بھائی راضی ہیں تو قاضی گلہ نہ کرے گا۔

قاعدے کی بات:

عام بات : قاعدے کی بات تو یہ ہے کہ لڑکیوں کی شادی جلدی کرنی چاہیے۔

قلم کرنا:

کاٹ دینا : جلاد نے اشارہ پاتے ہی باغی کا سر قلم کر ڈالا۔

قافیہ تنگ کرنا:

جینا دو بھر کرنا : لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے بلوں نے تو ہر شخص پر قافیہ تنگ کر رکھا ہے۔

قلعی کھل جانا: 

اصلیت کھل جانا : گجرات کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے بعد بھارت کے سیکولر ہونے کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔

قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھنا:

مرنے کے قریب ہونا : بوڑھا قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے مگر سیر سپاٹے کا شوق ابھی بھی نہیں گیا۔

قصہ پاک کرنا:

جھگڑا یا معاملہ ختم کرنا : چوھدری صاحب نے دونوں خاندانوں میں صلح کروا کر قصہ ہی پاک کر دیا۔

قلم بند کرنا:

لکھنا : مستنصر حسین تارڑ نے اپنے بین الاقوامی سفر کی روداد سفرنامے کی صورت میں قلم بند کی۔

قیامت برپا کرنا:

ہنگامہ کھڑا کر دینا : آٹھ اکتوبر کے زلزلے نے شمالی علاقہ جات میں قیامت برپا کر دی تھی۔

قدموں سے لگے پڑے ہیں:

خادم اور مطیع ہونا : اپ چوہدری صاحب کے بارے میں خواہ کچھ بھی کہیں ہم تو ان کے قدموں سے لگے پڑے ہیں۔

قلم انداز کرنا:

لکھتے وقت چھوڑ دینا : اپنی آپ بیتی لکھتے وقت مظہر صاحب بہت سی باتیں اور واقعات قلم انداز کر گئے۔

قابو سے باہر ہونا:

اختیار میں نہ رہنا : وہ جذبات میں آ کر قابو سے باہر ہو گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

قسم کھانے کو بھی باقی نہ رہنا:

کچھ بھی باقی نہ رہنا : آج کے دور میں تو پاسداری اور لحاظ قسم کھانے کو بھی باقی نہیں رہا۔

قلم توڑنا:

بہترین انداز میں لکھنا : ابن انشاء کا مزاح پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس میدان میں انہوں نے قلم توڑ کر رکھ دیا ہے۔

قول دینا:

وعدہ کرنا : اگر کسی کو قول دو تو اس کو نبھاؤ بھی۔





No comments:

Post a Comment