کافور ہونا:
غائب ہونا: یہ دعا بڑی مؤثر ہے اس کی ایک خوراک کھاتے ہی آپ کا سارا درد منٹوں میں کافور ہو جائے گا۔
کام آنا:
مارا جانا: حفیظ صاحب کے تینوں بیٹے پاک فوج کے خفیہ مشن میں کام آگئے مگر انہوں نے اف تک نہ کی۔
کام تمام کرنا:
مار ڈالنا: چوہدری صاحب نے اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے قاتل کا کام تمام کر دیا۔
کان بھرنا:
چغلی کھانا: ساس نے بہو کے خلاف اپنے بیٹے کے بہت کان بھرے مگر اسے کوئی اثر نہ ہوا۔
کان پر جوں تک نہ رینگنا:
قطعی طور پر اثر نہ ہونا: میں نے اپنے دوست کو بہت سمجھایا کہ وہ نشہ کرنا چھوڑ دے مگر اس کے کان پر تو جوں تک نہ رینگی۔
کان پڑی آواز سنائی نہ دینا:
بہت شور وغل ہونا: مہمان بچوں نے سالگرہ پر وہ ہنگامہ کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
کان پکڑنا:
توبہ کرنا: استاد سلامت علی خان جیسے مایہ ناز کلاسیکی گلوکار کے سامنے تو بڑے بڑے کان پکڑتے تھے۔
کان کترنا:
بہت چالاک ہونا: اکبر اور نبیل جیسے شاطر مرد تو بڑے بڑوں کے کان کترتے ہیں۔
کان کھڑے ہونا:
چوکنا ہونا: رات کے دو بجے دروازے کے باہر قدموں کی آواز سن کر شازیہ کے کان کھڑے ہو گئے۔
کانوں کا کچا ہونا:
ہر کسی کی بات پر اعتبار کر لینا: شیخ صاحب تو کانوں کے بڑے کچے ہیں، ان کے ساتھ تعلقات مزید نہیں بڑھائے جا سکتے۔
کانوں پر ہاتھ دھرنا:
لا علمی کا اظہار کرنا: جب امی نے پوچھا کہ گلاس کس نے توڑا ہے تو دونوں بہنوں نے کانوں پر ہاتھ دھرے اور کہا کہ وہ کچھ نہیں جانتیں۔
کانوں کان خبر نہ ہونا:
بالکل معلوم نہ ہونا: طاہر کے لندن روانہ ہونے کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی۔
کایا پلٹنا:
حالت بدل جانا: اکبر کے لندن جانے سے اس خاندان کی کایا پلٹ گئی۔
کاٹو تو لہو نہیں:
خوف زدہ یا دکھ کی حالت میں ہونا: خود پر لگنے والے بے بنیاد الزامات کی فہرست سن کر صبا کی حالت تو یہ تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں۔
کالےکوے کھائے ہیں:
بڑھاپے میں بھی جس کے بال کالے ہوں: ہم تو بال رنگ رنگ کر اکتا گئے مگر آپ کو دیکھ کر لگتا ہے شاید آپ نے کالے کوے کھائے ہیں۔
کالے کے آگے چراغ نہیں جلتا:
زبردست کے سامنے بس نہیں چلتا: غریب ملازم چوہدری صاحب کے سامنے کیا صفائی پیش کرتا تم تو جانتے ہی ہو کہ کالے کے آگے چراغ نہیں جلتا۔
کبھی تولہ کبھی ماشہ:
غیر مستقل مزاج شخص: افضل کوئی فیصلہ صحیح نہیں کر سکتا کیونکہ وہ کبھی تولہ کبھی ماشہ ہوتا ہے۔
کروڑ کی ایک:
نہایت تجربے کی بات: کروڑ کی ایک تو یہ ہے کہ انسان کو اپنے گناہوں کا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
کتر بیونت کرنا:
کانٹ چھانٹ کرنا: غریب بیوہ نے لوگوں کے دیے ہوئے کپڑوں کی کتر بیونت کر کے اپنے بچوں کے لیے عید کے کپڑے تیار کیے۔
کچی گولیاں کھیلنا:
نا تجربہ کار ہونا: میں نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں جو تمہارے دھوکے میں آ جاؤں۔
کف افسوس ملنا:
پچھتانا: تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ برے لڑکوں کی صحبت میں مت بیٹھو، اب کف افسوس ملنے سے کیا فائدہ؟
کلیجا منہ کو آنا:
سخت بے چین ہونا: چھوٹے چھوٹے بچوں کو کوڑا اکٹھا کرتا دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
کلنک کا ٹیکا:
بدنامی کا باعث بننا: قتل کے الزام میں ملوث ہو کر اکبر نے خاندان کے نام پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔
کمر باندھنا:
تیار ہونا: اسٹیشن پہ گاڑی آگئی ہے لہذا روانگی کے لیے کمر باندھ لو۔
کس حساب میں ہے:
کون پوچھتا ہے: غریب آج کل بھلا کس حساب میں ہے؟
کس درد کی دوا ہے:
کس کام کی ہے: آخر یہ مشین کس درد کی دوا ہے جو تم ہاتھ سے کپڑے دھو رہی ہو۔
کس باغ کی مولی ہے:
بے حقیقت اور معمولی شخص: تم کس باغ کی مولی ہو، میں تمہارے جیسے کئی افسروں سے نبٹ چکا ہوں۔
کوئی دم کا مہمان:
مرنے کے قریب: حادثے میں زخمی ہونے والا ڈرائیور اب کوئی دم کا مہمان ہے۔
کندھے سے کندھا چھلنا:
بہت بھیڑ ہونا: بازار میں اتنا رش تھا کہ کندھے سے کندھا چھل رہا تھا۔
کوڑیوں کے مول بکنا:
بہت سستا بکنا: کچھ سال پہلے عام چیزیں کوڑیوں کے مول بکتی تھیں مگر اب تو مہنگائی نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔
کوڑی کا مال نہیں:
بے حد نکما: اکبر تو کوڑی کا مال نہیں، میں کبھی اسے اپنی دکان پر ملازم نہیں رکھوں گا۔
کہنے کی باتیں:
صرف زبانی خرچ: حکومت اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکال پائے گی، یہ اجلاس وغیرہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔
کبھی ڈوبے بھی ترے ہیں:
بگڑے ہوئے کا سنورنا مشکل ہوتا ہے: جسے بچپن سے ہی جھوٹ اور دھوکہ دہی کی عادت ہو، وہ کیسے سدھرے گا، بھلا کبھی ڈوبے بھی ترے ہیں۔
کھلبلی مچنا:
ہلچل مچنا: فائرنگ کی آواز سن کر ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔
کاٹھ کا الو:
بے وقوف آدمی: دیکھنے میں وہ کاٹھ کا الو لگتا ہے مگر ہے بڑا سیانا۔
کتابی کیڑا:
ہر وقت پڑھنے والا: صارم تو کتابی کیڑا ہے اس لیے ہر امتحان میں اول آتا ہے۔
کھٹائی میں پڑنا:
معاملے کو التوا میں ڈالنا: رشوت نہ دینے کی وجہ سے پولیس والے میری ایف آئی آر کو کھٹائی میں ڈال رہے ہیں۔
کلیجا ٹھنڈا ہونا:
تسکین پانا: گم شدہ بچے کو واپس پا کر ماں کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔
کاغذ کے گھوڑے دوڑانا:
ہر طرف خط لکھنا: اس نے ہر طرف کاغذ کے گھوڑے دوڑائے مگر کوئی بھی مدد کو نہ پہنچا۔
کفر ٹوٹنا:
ضد ختم ہونا: خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا اور بہو گھر واپس آنے کو تیار ہوئی۔
گریبان میں منہ ڈالنا:
اپنے آپ پر غور کرنا: دوسروں پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں منہ ڈالنا چاہیے۔
گھی کے چراغ جلانا:
بہت ہی خوشی کا اظہار کرنا: اتنی دعاؤں کے بعد اللہ تعالٰی نے اسے بیٹے سے نوازا ہے، اسے تو گھی کے چراغ جلانے چاہئیں۔
گت بنانا:
سزا دینا: ماسٹر صاحب نے کام مکمل نہ کرنے پر بچے کی ایسی گت بنائی کہ اب وہ گھر جاتے ہی اسکول کام پہلے مکمل کرتا ہے۔
گڑے مردے اکھاڑنا:
پرانی باتیں یاد کرنا: آپس میں اختلافات ختم کرنے کے لیے گڑے مردے اکھاڑنے سے گریز کرنا چاہیے۔
گن گانا:
تعریف کرنا: ہر کوئی عبدالستار ایدھی کی خدا ترسی اور فلاحی کاموں کے گن گاتا ہے۔
گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا:
تجربہ کار ہونا: جمشید نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے، وہ کبھی دھوکہ نہیں کھا سکتا۔
گھٹی میں پڑنا:
فطرت میں داخل ہونا: جھوٹ بولنا تو اس کی گھٹی میں شامل ہے۔
گھوڑے بیچ کر سونا:
اطمینان کی نیند سونا: چوکیدار گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا اور چور موٹر سائیکل کا لاک توڑنے میں مصروف تھے۔

No comments:
Post a Comment