اردو محاورے (ہ اور ی)

 

ہاتھ پاؤں پھول جانا: 
گھبرا جانا: سانپ کو سامنے دیکھ کر اس کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھنا: 
بیکار بیٹھنا: یوں ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھے رہو گے تو گھر بار کیسے چلے گا۔
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا: 
بےکار بیٹھنا: کوئلے کی کان میں زہریلی گیس پھیلنے کی وجہ سے کام بند کر دیا گیا اور اب مزدور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
ہاتھ پاؤں مارنا: 
کوشش کرنا: باہر جانے کے لیے زاہد نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر بے سود۔
ہاتھ پھیلانا: 
مانگنا: دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے والا عزت نفس سے محروم ہو جاتا ہے۔
ہاتھ دھو بیٹھنا: 
کھو بیٹھنا: سادہ لوح دیہاتی ایک اجنبی پر بھروسہ کر کے اپنی نئی موٹر سائیکل سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
ہاتھ ملنا: 
پچھتانا: نئی کار خریدنے کا یہ سنہری موقع تھا جو تم نے کھو دیا اب ہاتھ ملنے سے کیا فائدہ۔
ہاتھوں کے طوطے اڑنا: 
ہوش اڑ جانا: اپنی فیکٹری پر پولیس کے چھاپے کا سن کر حسن صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھتا: 
نہایت اندھیرا ہونا: اچانک لائٹ چلی گئی تھی اور ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھ رہا تھا۔
ہاتھ کا دیا آڑے آئے:
خیرات مصیبت ٹالتی ہے: ہمیشہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو، ہاتھ کا دیا ہی آڑے آتا ہے۔
ہاتھی نکل گیا اور دم رہ گئی: 
مشکل کام ہو جانا مگر آسان کام رہ جانا: گھر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے صرف رنگ و روغن باقی ہے گویا ہاتھی نکل گیا ہے اور دم رہ گئی ہے۔
ہاں میں ہاں ملانا: 
تائید کرنا: آج کل کے دور میں جب تک ہر معاملے میں افسر کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں ترقی نہیں ہو سکتی۔
ہتھیلی پر سرسوں جمانا: 
نہایت پھرتی سے کوئی کام کرنا: شادی کے معاملات میں ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی بلکہ بہت سوچ بچار کے بعد ہر معاملہ طے پاتا ہے۔



No comments:

Post a Comment