گزرےوقتوں کی بات ہے، ایک بادشاہ ہرن کا شکار کر نے جنگل کی طرف نکلا۔ اس نے جنگل میں ہرن کو بہت تلاش کیا لیکن ہرن نہ ملا۔ ہرن کی تلاش میں بادشاہ کو درختوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گھر نظر آیا۔ اس گھر کے باہر ایک خوبصورت لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جو کدو کے پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ بادشاہ نے اس لڑکی سے کہا کہ وہ بہت پیاسا ہے اور کیا وہ پانی پی سکتا ہے؟ لڑکی کنویں کے پاس گئی اور ایک پیالے میں پانی بھر کر لے آئی۔ یہ ایک پرانا پیالہ تھا جو کہ ٹوٹا پھوٹا تھا۔ اسے بہت شرمندگی ہوئی۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ اسے بہت افسوس ہے کہ یہ پیالہ کسی بادشاہ کے سامنے پانی پیش کرنے کے لیے مناسب نہیں ہے لیکن اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی پیالہ نہیں ہے ۔بادشاہ نے پانی پیااور اس لڑکی کا شکریہ ادا کیا۔ لڑکی نے بادشاہ سے پیالہ لے کر زمین پر پٹخ دیا۔ پیالہ کئی ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ بادشاہ نے لڑکی سے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ لڑکی نے کہا کہ اس پیالے میں ایک عظیم بادشاہ نے پانی پیا ہے لہذا کسی اور کو اس میں پانی نہیں پینا چاہیے، اس لیے اس نے یہ پیالہ توڑ دیا۔ بادشاہ اس لڑکی کے خوبصورت لفظوں سے بہت خوش ہوا اور اپنے محل واپس چلا گیا۔
ایک دن بادشاہ نے سوچا کہ اس لڑکی کا امتحان لینا چاہیے۔ وہ لڑکی بہت مہربان تو تھی کیا وہ عقلمند بھی ہے؟ اس نے ایک تنگ منہ والا گھڑا نوکر کو دیا اور کہا کہ اس گھڑے کو لڑکی کے پاس لے جاؤ اور اسے میرا پیغام دے دو۔ نوکر اس لڑکی کے گھر گیا۔ وہ تنگ منہ والا گھڑا لڑکی کو دیا اور کہا کہ یہ بادشاہ کی خواہش ہے کہ تم اس کے لیے اس برتن میں ایک بڑا کدو ڈال کر لاو، لیکن کدو مکمل ہونا چاہیے اس کے ٹکڑے نہیں ہونے چاہیے۔ لڑکی نے جواب دیا ہے کہ یہ تو بہت آسان ہے لیکن اسے اس کام کو مکمل کرنے میں چند مہینے لگیں گے۔
کئی مہینے گزر گئے، بادشاہ اس خوبصورت لڑکی کو دوبارہ دیکھنا چاہتا تھا۔ بادشاہ سوچ رہا تھا کہ آیا اس نے وہ کام کیا ہے کہ نہیں۔آخرکار وہ لڑکی محل میں آئی۔ اس نے ایک گھڑا پکڑا ہوا تھا اس نے وہ گھڑا بادشاہ کو دیا اور کہا کہ میں نے آپ کا کام کر دیا ہے جیسا کہ آپ نے کہا تھا۔ بادشاہ نے کہا، چلو دیکھتے ہیں۔ بادشاہ نے گھڑا زمین پر پٹخ دیا۔ اس میں سے ایک بڑا نارنجی کدو برآمد ہوا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ کدو برتن میں کیسے ڈالا؟ وہ ہنسی اور کہا کہ اس نے کدو کے کچھ بیج گھڑے میں رکھ دیے تھے اور اس پر مٹی ڈال دی تھی۔ اس طرح وہ روز اس کو پانی دیتی رہی اور اس میں ایک بڑا کدو اگ آیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا تم بہت عقلمند ہو، کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ لڑکی بادشاہ سے شادی کرنے کےلئے رضامند ہو گئی۔ دونوں کی شادی ہو گئی اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔

No comments:
Post a Comment