یہ کہانی شمالی امریکہ کے ایک جنگل میں رہنے والے ریچھ اور لومڑی کی ہے۔ وہ دونوں بہترین دوست تھے۔ ریچھ کی دم بڑی خوبصورت اور لمبی تھی۔ جنگل کے تمام جانور ریچھ اور اس کی دم سے بہت پیار کرتے تھے۔ وہ سب ایک ساتھ کھیلتے ہوئے دن گزارتے تھے۔ موسم گرم تھا۔ جنگل میں کھانے کے لیے بہت کچھ تھا لیکن پھر سردی آگئی۔ موسم بدل گیا۔ برف نے ہر چیز کو ڈھانپ لیا۔ ریچھ اور لومڑی کو کھانے کو کچھ نہ ملا۔ باقی جانور بھی بھوکے تھے۔ بھوک نے ان کو پاگل کر دیا اور وہ ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگے۔ وہ سب ریچھ کی دم سے جلنے لگے اور لومڑی ان میں سب سے آگے تھی۔
ایک دن وہ جھیل کے کنارے چہل قدمی کر رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ برف میں ایک سوراخ ہے۔ اس میں سے اود بلاؤ باہر آ رہا ہے اور اس کے منہ میں مچھلی ہے۔ مچھلی دیکھ کر لومڑی کے منہ میں پانی بھر آ یا۔ لومڑی نے اود بلاؤ سے مچھلی چھینی اور اپنے دانتوں میں دبا کر بھاگ نکلی۔ ایسی مزیدار مچھلی اس نے کبھی نہیں کھائی تھی۔ ابھی وہ مچھلی ختم کرنے کے قریب تھی کہ ریچھ ادھر آ نکلا۔ ریچھ نے اس سے پوچھا کہ تم نے مچھلی کیسے پکڑی، یہاں تو ہر طرف برف ہی برف ہے۔ لومڑی نے کہا کہ یہ تو بہت آسان ہے۔ اس بتایا کہ اس نے برف میں ایک سوراخ بنایا اور اس کے اندر اپنی دم ڈال دی۔ مچھلی نے دم کو پکڑا تو اس نے دم باہر نکال لی اور ساتھ میں مچھلی بھی آ گئی۔ لومڑی نے ریچھ سے کہا کہ تمہاری دم تو کافی لمبی ہے، تم اس سے زیادہ مچھلیاں پکڑ سکتے ہو۔ یہ سن کر ریچھ کے منہ میں پانی آگیا اور وہ ایسا کرنے پر رضامند ہو گیا۔
لومڑی نے برف میں سوراخ بنایا اور ریچھ کو برف کے اوپر ایسے بٹھایا کہ اس کی دم سوراخ کے اندر ٹھنڈے پانی میں تھی۔ لومڑی نے ریچھ سے کہا کہ اب تم نے یہاں سے نہیں ہلنا میں درخت کے پیچھے چھپ جاؤں گی اور تمہیں اشارہ کروں گی کہ دم کب باہر نکالنی ہے۔ لیکن وہ چالاک لومڑی درخت کے پیچھے نہیں چھپی بلکہ اپنے گھر واپس آگئی۔ ریچھ وہاں برف پر بیٹھا رہا۔ اچانک اسے دم کے اردگرد کچھ محسوس ہوا۔ لیکن وہ لومڑی کے اشارے کا انتظار کرتا رہا۔ اس کی دم پر سنسناہٹ بڑھتی چلی گئی۔ آخر کار جب یہ سب برداشت سے باہر ہو گیا تو اس نے چھلانگ لگا دی۔ لیکن یہ کیا ہوا، اس کی دم پانی میں مکمل طور پر جم گئی تھی اور اس کے جسم سے الگ ہو گئی۔ ریچھ نے خوف سے اپنی دم کو دیکھا اور رونے لگا۔ روتے ہوئے اس نے لومڑی کو آواز دی، لیکن وہ وہاں نہیں تھی تب اسے پتہ چلا کہ یہ لومڑی کی ایک چال تھی۔ اس دن کے بعد ریچھ نے کبھی کسی پر بھروسہ نہیں کیا۔

No comments:
Post a Comment