دور دراز گاؤں میں ایک میاں بیوی رہتے تھے۔ ان دونوں میں بہت پیار تھا۔ وہ کبھی آپس میں جھگڑا نہیں کرتے تھے۔ ان کے تمام پڑوسی ان سے حسد کرتے تھے۔ ایک دن ان کے گھر بیٹا پیدا ہوا لیکن وہ دونوں زیادہ دیر خوش نہ رہ سکے۔ بیٹے کی پیدائش کے کچھ دیر بعد ہی اس کی بیوی اس دنیا سے چلی گئی۔ وہ چیختا رہا اور روتا رہا۔ بیوی کے جانے کے دکھ کے ساتھ ساتھ اس کو یہ پریشانی تھی کہ وہ اس بچے کو اکیلا کیسے پالے گا۔ اس نے وہی کیا جو اس کے لیے سب سے بہتر تھا۔ اس نے بچے کی دیکھ بھال کے لیے ایک بوڑھی عورت کی خدمات حاصل کر لیں۔ سارا دن وہ بچہ روتا رہتا اور کچھ نہیں کھاتا تھا، لیکن رات کو وہ خاموشی سے سو جاتا تھا۔ بوڑھی عورت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ ایک رات اس نے سوچا کہ وہ جاگتی رہے گی اور اس راز کو جاننے کی کوشش کرے گی۔
آدھی رات کو اس بوڑھی عورت کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اسے لگا کہ کوئی کمرے میں داخل ہوا ہے اور بچے کے جھولے کے اندر چلا گیا ہے ، جیسے بچے کو دودھ پلایا جا رہا ہو۔ اگلی رات بھی ایسا ہی ہوا اور اس سے اگلی رات بھی ایسے ہی ہوا۔ اس نے بچے کے باپ سے اس بات کا ذکر کیا۔ اس نے اپنے رشتہ داروں کو بتایا تو سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ رات کو اکٹھے جاگیں گے اور دیکھیں گے کہ بچوں کو کون دودھ پلاتا ہے۔ آدھی رات کو کمرے کا دروازہ کھلا۔ کوئی جھولے کی طرح بڑھا اور اس کو دیکھ کر بچہ خاموش ہو گیا۔ اسی وقت رشتہ داروں میں سے کسی ایک نے روشنی کر دی۔ وہ سب دہشت زدہ ہو گئے کیونکہ ان کے سامنے اس بچے کی مردہ ماں تھی جو بالکل ان کپڑوں میں تھی جن میں اس کو دفن کیا گیا تھا۔ جب کمرے میں روشنی ہوئی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔اس نے اپنے بچے کو دکھ کے ساتھ دیکھا اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ وہ سب جلدی سے بچے کی طرف بڑھے لیکن بچہ مر چکا تھا۔ ماں بچے کو اپنے ساتھ لے کے جا چکی تھی۔

No comments:
Post a Comment