جنگلی چوہا اور چمگادڑ

 


ایک جنگلی چوہے اور چمگادڑ میں بہت دوستی تھی۔ وہ مل کر رہتے اور ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ چمگادڑ بہت اچھا سوپ بناتی تھی جو جنگلی چوہے کو بہت پسند آتا تھا۔ ایک دن جنگلی چوہے نے چمگادڑ سے پوچھا کہ تم جو سوپ بناتی ہو وہ اتنا مزیدار کیسے ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ دونوں دوست تھے لیکن چمگادڑ چوہے سے جلتی تھی۔ اس لیے اس نے چوہے کو کہا کہ وہ پانی میں خود کو ابالتی ہے اور پھر اس میں اپنا نرم گوشت ڈالتی ہے، اس لیے سوپ اتنا مزیدار بن جاتا ہے۔ چمگادڑ نے کہا کہ وہ اسے ایسا کر کے بھی دکھائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک پانی کا برتن لیا اور چوہے کو بتایا کہ اس میں ابلتا ہوا گرم پانی ہے۔ پھر چمگادڑ نے اس میں چھلانگ لگا دی اور باہر آگئی۔ جب سوپ تیار ہوا تو ہمیشہ کی طرح وہ بہت مزیدار اور لذیذ تھا۔

  چوہا جب گھر گیا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ چمگادڑ کی طرح ایک مزیدار سوپ تیار کرے گا۔ اس نے اپنی بیوی سے پانی ابالنے کو کہا۔ جب پانی ابلنے  لگا تو چوہے نے اس میں چھلانگ لگا دی اور بہت جلد مر گیا۔ چوہے کی بیوی نے اپنے شوہر کو اس میں ابلتا دیکھا تو اسے دکھ کے ساتھ ساتھ بہت غصہ آیا۔اس نے جنگل کے بادشاہ کو اس سارے واقعے کی اطلاع کر دی۔ بادشاہ نے چمگادڑ کو قید کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ہر کوئی چمگادڑ کی تلاش میں نکل پڑا۔ ادھر چمگادڑ کو پتا تھا کہ ایسے ہی ہوگا۔ چنانچہ اس نے اپنے آپ کو جھاڑیوں میں چھپا لیا۔ دن بھر سب نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن نہ پکڑ سکے اور تھک ہار کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ رات کو چمگادڑ جھاڑیوں سے باہر نکل آئی اور اپنے کھانے پینے کا انتظام کیا۔ اس دن سے چمگادڑ نے اپنی عادتیں بدل لیں۔ وہ دن بھر جھاڑیوں میں چھپی رہتی  اور رات کو کھانے کی تلاش میں باہر نکل آتی۔ اسی وجہ سے چمگادڑ آپ کو دن میں کبھی نظر نہیں آتی ۔

مردہ مامتا(روسی لوک کہانی)

  


دور دراز گاؤں میں ایک میاں بیوی رہتے تھے۔ ان دونوں میں بہت پیار تھا۔ وہ کبھی آپس میں جھگڑا نہیں کرتے تھے۔ ان کے تمام پڑوسی ان سے حسد کرتے تھے۔ ایک دن ان کے گھر بیٹا پیدا ہوا لیکن وہ دونوں زیادہ دیر خوش نہ رہ سکے۔ بیٹے کی پیدائش کے کچھ دیر بعد ہی اس کی بیوی اس دنیا سے چلی گئی۔ وہ چیختا رہا اور روتا رہا۔ بیوی کے جانے کے دکھ کے ساتھ ساتھ اس کو یہ پریشانی تھی کہ وہ اس بچے کو اکیلا کیسے پالے گا۔ اس نے وہی کیا جو اس کے لیے سب سے بہتر تھا۔ اس نے بچے کی دیکھ بھال کے لیے ایک بوڑھی عورت کی خدمات حاصل کر لیں۔ سارا دن وہ بچہ روتا رہتا  اور کچھ نہیں کھاتا تھا، لیکن رات کو وہ خاموشی سے سو جاتا تھا۔ بوڑھی عورت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ ایک رات اس نے سوچا کہ وہ جاگتی رہے گی اور اس راز کو جاننے کی کوشش کرے گی۔

 آدھی رات کو اس بوڑھی عورت کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اسے لگا کہ کوئی کمرے میں داخل ہوا ہے اور بچے کے جھولے کے اندر چلا گیا ہے ، جیسے بچے کو دودھ پلایا جا رہا ہو۔ اگلی رات بھی ایسا ہی ہوا اور اس سے اگلی رات بھی ایسے ہی ہوا۔ اس نے بچے کے باپ سے اس بات کا ذکر کیا۔ اس نے اپنے رشتہ داروں کو بتایا تو سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ رات کو اکٹھے جاگیں گے اور دیکھیں گے کہ بچوں کو کون دودھ پلاتا ہے۔ آدھی رات کو کمرے کا دروازہ کھلا۔ کوئی جھولے کی طرح بڑھا اور اس کو دیکھ کر بچہ خاموش ہو گیا۔ اسی وقت رشتہ داروں میں سے کسی ایک نے روشنی کر دی۔ وہ سب دہشت زدہ ہو گئے کیونکہ ان کے سامنے اس بچے کی مردہ ماں تھی جو بالکل ان کپڑوں میں تھی جن میں اس کو دفن کیا گیا تھا۔ جب کمرے میں روشنی ہوئی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔اس نے اپنے بچے کو دکھ کے ساتھ دیکھا اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ وہ سب جلدی سے بچے کی طرف بڑھے لیکن بچہ مر چکا تھا۔ ماں بچے کو اپنے ساتھ لے کے جا چکی تھی۔

بھورا ریچھ

 


یہ کہانی شمالی امریکہ کے ایک جنگل میں رہنے والے ریچھ اور لومڑی کی ہے۔ وہ دونوں بہترین دوست تھے۔ ریچھ کی دم بڑی خوبصورت اور لمبی تھی۔ جنگل کے تمام جانور ریچھ اور اس کی دم سے بہت پیار کرتے تھے۔ وہ سب ایک ساتھ کھیلتے ہوئے دن گزارتے تھے۔ موسم گرم تھا۔ جنگل میں کھانے کے لیے بہت کچھ تھا لیکن پھر سردی آگئی۔ موسم بدل گیا۔ برف نے ہر چیز کو ڈھانپ لیا۔ ریچھ اور لومڑی کو کھانے کو کچھ نہ ملا۔ باقی جانور بھی بھوکے تھے۔ بھوک نے ان کو پاگل کر دیا اور وہ ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگے۔ وہ سب ریچھ کی دم سے جلنے لگے اور لومڑی ان میں سب سے آگے تھی۔

 ایک دن وہ جھیل کے کنارے چہل قدمی کر رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ برف میں ایک سوراخ ہے۔ اس میں سے اود بلاؤ باہر آ رہا ہے اور اس کے منہ میں مچھلی ہے۔ مچھلی دیکھ کر لومڑی کے منہ میں پانی بھر آ یا۔ لومڑی نے اود بلاؤ سے مچھلی چھینی اور اپنے دانتوں میں دبا کر بھاگ نکلی۔ ایسی مزیدار مچھلی اس نے کبھی نہیں کھائی تھی۔ ابھی وہ مچھلی ختم کرنے کے قریب تھی کہ ریچھ ادھر آ نکلا۔ ریچھ نے اس سے پوچھا کہ تم نے مچھلی کیسے پکڑی، یہاں تو ہر طرف برف ہی برف ہے۔ لومڑی نے کہا کہ یہ تو بہت آسان ہے۔ اس بتایا کہ اس نے برف میں ایک سوراخ بنایا اور اس کے اندر اپنی دم ڈال دی۔ مچھلی نے دم کو پکڑا تو اس نے دم باہر نکال لی اور ساتھ میں مچھلی بھی آ گئی۔ لومڑی نے ریچھ سے کہا کہ تمہاری دم تو کافی لمبی ہے، تم اس سے زیادہ مچھلیاں پکڑ سکتے ہو۔ یہ سن کر ریچھ کے منہ میں پانی آگیا اور وہ ایسا کرنے پر رضامند ہو گیا۔

 لومڑی نے برف میں سوراخ بنایا اور ریچھ کو برف کے اوپر ایسے بٹھایا کہ اس کی دم سوراخ کے اندر ٹھنڈے پانی میں تھی۔ لومڑی نے ریچھ سے کہا کہ اب تم نے یہاں سے نہیں ہلنا میں درخت کے پیچھے چھپ جاؤں گی اور تمہیں اشارہ کروں گی کہ دم کب باہر نکالنی ہے۔ لیکن وہ چالاک لومڑی درخت کے پیچھے نہیں چھپی بلکہ اپنے گھر واپس آگئی۔ ریچھ وہاں برف پر بیٹھا رہا۔ اچانک اسے دم کے اردگرد کچھ محسوس ہوا۔ لیکن وہ لومڑی کے اشارے کا انتظار کرتا رہا۔ اس کی دم پر سنسناہٹ بڑھتی چلی گئی۔ آخر کار جب یہ سب برداشت سے باہر ہو گیا تو اس نے چھلانگ لگا دی۔ لیکن یہ کیا ہوا، اس کی دم پانی میں مکمل طور پر جم گئی تھی اور اس کے جسم سے الگ ہو گئی۔ ریچھ نے خوف سے اپنی دم کو دیکھا اور رونے لگا۔ روتے ہوئے اس نے لومڑی کو آواز دی، لیکن وہ وہاں نہیں تھی تب اسے پتہ چلا کہ یہ لومڑی کی ایک چال تھی۔ اس دن کے بعد ریچھ نے کبھی کسی پر بھروسہ نہیں کیا۔

دم کہانی

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گھر میں ایک سفید گنی پگ رہتا تھا۔ اس کا مالک بہت مہربان تھا اور اس کا اچھے سے خیال رکھتا تھا۔ اس کے باوجود اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اس گھر سے بھاگ جائے اور باہر کی دنیا دیکھے۔ آخر کار ایک دن وہ موقع پاکر اس گھر سے فرار ہو گیا۔ آزاد ہونے کے بعد وہ بہت خوش تھا کیونکہ وہ اب جہاں چاہے جا سکتا تھا۔ چلتے چلتے اچانک وہ کسی بڑی نرم چیز سے ٹکرا گیا۔ وہ ایک بھورے بالوں والی بلی تھی جو سبز گھاس کے کنارے بیٹھی ہوئی تھی۔ بلی نے گنی پک کو غصے میں ڈانٹ دیا کہ کیا وہ دیکھ کر نہیں چل سکتا۔ بلی غصے میں اپنی لمبی جھاڑی والی دم کو ہلاتے ہوئے بولی۔ گنی پگ نے اس کی دم دیکھی تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس نے اپنی دم ہلانے کی کوشش کی لیکن نہیں کر سکا کیونکہ اس کے پاس ایسی دم نہیں تھی۔ بلی نے اس کو ایسا کرتے دیکھا تو ہنسی اور کہا کہ لگتا ہے آپ اپنی دم کے بغیر ہی باہر نکل ائے ہیں۔ گنی پگ نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ اسے لگا کہ شاید اس نے اپنی دم کہیں گرا دی ہے۔ بلی نے گنی پک سے کہا کہ آؤ ہم جنگلی چوہے سے پوچھتے ہیں۔ شاید اس نے تمہاری دم کہیں دیکھی ہو۔ بلی نے جنگلی چوہے سے کہا کہ گنی پگ نے اپنی دم کھو دی ہے، کیا تم نے اسے کہیں دیکھا ہے؟ جنگلی چوہے نے جواب دیا کہ اس نے پیچھے کھائی میں ایک پرانا سا چیتھڑا دیکھا ہے، کیا وہ اس گنی پگ کی دم تو نہیں؟ اس کی بات سن کر گنی پک کو غصہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اتنی بے وقوفی کی باتیں مت کرو، وہ میری دم ہرگز نہیں ہو سکتی۔ جنگلی چوہے نے کہا کہ پھر تم خود ہی بتا دو کہ تمہاری دم کیسی تھی؟ گنی پگ پھر گھبرا گیا اور کہنے لگا کہ اسے نہیں پتا کہ اس کی دم کیسی تھی، اسے تو بلی نے بتایا کہ اس نے دم کو کھو دیا ہے۔ وہاں پر ایک بندر بھی آن پہنچا۔ بلی نے بندر سے کہا کہ کیا اس نے گنی پگ کی دم کو کہیں دیکھا ہے؟ بلی نے کہا کہ گنی پگ کی دم غائب ہو گئی ہے اور سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں تلاش کریں۔ بندر نے بلی کو آنکھ ماری اور کہا کہ ہاں میں نے ایک دم دیکھی ہے مجھے امید ہے کہ وہ گنی پگ کی ہوگی۔ وہ بھاگا اور جلدی سے اس کی دم لے آیا۔ وہ خوشی سے بولا کہ تمہاری پریشانی ختم ہو گئی ہے، تمہاری دم مل گئی ہے، جب کہ وہ دم نہیں تار کا ایک پرانا ٹکڑا تھا۔ گنی پگ نے تار کے ٹکڑے کو بیزاری سے دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی دم نہیں ہے۔ بلی نے کہا اگر تم نہیں جانتے ہو کہ تمہاری دم کیسی ہے تو پھر یہ کیسے جانتے ہو کہ یہ تمہاری دم نہیں ہے؟ بندر تمہاری دم کو دوبارہ اسی جگہ لگا سکتا ہے۔ گنی پگ پریشان ہو گیا اور کہنے لگا کہ وہ ایسا نہیں ہونے دے گا، یہ اس کی دم نہیں ہے اور اسے سلائی کرنے سے اسے بہت تکلیف ہوگی۔ میں اس اچھے اور ارام دے گھر میں واپس جا رہا ہوں مجھے اس آزادی سے نفرت ہو گئی ہے۔گنی پگ بڑبڑایا۔ اس کے بعد وہ بھاگ نکلا اور اپنے گھر واپس جا کر دروازہ زور سے بند کر لیا۔ گنی پگ نے دوبارہ توبہ کر لی کہ وہ گھر سے بھاگنے کا سوچے گا بھی نہیں۔

گھڑے میں کدو

گزرےوقتوں کی بات ہے، ایک بادشاہ ہرن کا شکار کر نے جنگل کی طرف نکلا۔ اس نے جنگل میں ہرن کو بہت تلاش کیا لیکن ہرن نہ ملا۔ ہرن کی تلاش میں بادشاہ کو درختوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گھر نظر آیا۔ اس گھر کے باہر ایک خوبصورت لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جو کدو کے پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ بادشاہ نے اس لڑکی سے کہا کہ وہ بہت پیاسا ہے اور کیا وہ پانی پی سکتا ہے؟ لڑکی کنویں کے پاس گئی اور ایک پیالے میں پانی بھر کر لے آئی۔ یہ ایک پرانا پیالہ تھا جو کہ ٹوٹا پھوٹا تھا۔ اسے بہت شرمندگی ہوئی۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ اسے بہت افسوس ہے کہ یہ پیالہ کسی بادشاہ کے سامنے پانی پیش کرنے کے لیے مناسب نہیں ہے لیکن اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی پیالہ نہیں ہے ۔بادشاہ نے پانی پیااور اس لڑکی کا شکریہ ادا کیا۔ لڑکی نے بادشاہ سے پیالہ لے کر زمین پر پٹخ دیا۔ پیالہ کئی ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ بادشاہ نے لڑکی سے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ لڑکی نے کہا کہ اس پیالے میں ایک عظیم بادشاہ نے پانی پیا ہے لہذا کسی اور کو اس میں پانی نہیں پینا چاہیے، اس لیے اس نے یہ پیالہ توڑ دیا۔ بادشاہ اس لڑکی کے خوبصورت لفظوں سے بہت خوش ہوا اور اپنے محل واپس چلا گیا۔

 ایک دن بادشاہ نے سوچا کہ اس لڑکی کا امتحان لینا چاہیے۔ وہ لڑکی بہت مہربان تو تھی کیا وہ عقلمند بھی ہے؟ اس نے ایک تنگ منہ والا گھڑا نوکر کو دیا اور کہا کہ اس گھڑے کو لڑکی کے پاس لے جاؤ اور اسے میرا پیغام دے دو۔ نوکر اس لڑکی کے گھر گیا۔  وہ تنگ منہ والا گھڑا لڑکی کو دیا اور کہا کہ یہ بادشاہ کی خواہش ہے کہ تم اس کے لیے اس برتن میں ایک بڑا کدو ڈال کر لاو، لیکن کدو مکمل ہونا چاہیے اس کے ٹکڑے نہیں ہونے چاہیے۔ لڑکی نے جواب دیا ہے کہ یہ تو بہت آسان ہے لیکن اسے اس کام کو مکمل کرنے میں چند مہینے لگیں گے۔

 کئی مہینے گزر گئے، بادشاہ اس خوبصورت لڑکی کو دوبارہ دیکھنا چاہتا تھا۔ بادشاہ سوچ رہا تھا کہ آیا اس نے وہ کام کیا ہے کہ نہیں۔آخرکار وہ لڑکی محل میں آئی۔ اس نے ایک گھڑا پکڑا ہوا تھا اس نے وہ گھڑا بادشاہ کو دیا اور کہا کہ میں نے آپ کا کام کر دیا ہے جیسا کہ آپ نے کہا تھا۔ بادشاہ نے کہا، چلو دیکھتے ہیں۔ بادشاہ نے گھڑا زمین پر پٹخ دیا۔ اس میں سے ایک بڑا نارنجی کدو برآمد ہوا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ کدو  برتن میں کیسے ڈالا؟ وہ ہنسی اور کہا کہ اس نے کدو کے کچھ بیج گھڑے میں رکھ دیے تھے اور اس پر مٹی ڈال دی تھی۔ اس طرح وہ روز اس کو پانی دیتی رہی اور اس میں ایک بڑا کدو اگ آیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا تم بہت عقلمند ہو، کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ لڑکی بادشاہ سے شادی کرنے کےلئے رضامند ہو گئی۔ دونوں کی شادی ہو گئی اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔

اردو محاورے (ہ اور ی)

 

ہاتھ پاؤں پھول جانا: 
گھبرا جانا: سانپ کو سامنے دیکھ کر اس کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھنا: 
بیکار بیٹھنا: یوں ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھے رہو گے تو گھر بار کیسے چلے گا۔
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا: 
بےکار بیٹھنا: کوئلے کی کان میں زہریلی گیس پھیلنے کی وجہ سے کام بند کر دیا گیا اور اب مزدور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
ہاتھ پاؤں مارنا: 
کوشش کرنا: باہر جانے کے لیے زاہد نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر بے سود۔
ہاتھ پھیلانا: 
مانگنا: دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے والا عزت نفس سے محروم ہو جاتا ہے۔
ہاتھ دھو بیٹھنا: 
کھو بیٹھنا: سادہ لوح دیہاتی ایک اجنبی پر بھروسہ کر کے اپنی نئی موٹر سائیکل سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
ہاتھ ملنا: 
پچھتانا: نئی کار خریدنے کا یہ سنہری موقع تھا جو تم نے کھو دیا اب ہاتھ ملنے سے کیا فائدہ۔
ہاتھوں کے طوطے اڑنا: 
ہوش اڑ جانا: اپنی فیکٹری پر پولیس کے چھاپے کا سن کر حسن صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھتا: 
نہایت اندھیرا ہونا: اچانک لائٹ چلی گئی تھی اور ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھ رہا تھا۔
ہاتھ کا دیا آڑے آئے:
خیرات مصیبت ٹالتی ہے: ہمیشہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو، ہاتھ کا دیا ہی آڑے آتا ہے۔
ہاتھی نکل گیا اور دم رہ گئی: 
مشکل کام ہو جانا مگر آسان کام رہ جانا: گھر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے صرف رنگ و روغن باقی ہے گویا ہاتھی نکل گیا ہے اور دم رہ گئی ہے۔
ہاں میں ہاں ملانا: 
تائید کرنا: آج کل کے دور میں جب تک ہر معاملے میں افسر کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں ترقی نہیں ہو سکتی۔
ہتھیلی پر سرسوں جمانا: 
نہایت پھرتی سے کوئی کام کرنا: شادی کے معاملات میں ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی بلکہ بہت سوچ بچار کے بعد ہر معاملہ طے پاتا ہے۔



اردو محاورے (ن اور و)

 

ناک بھوں چڑھانا:
نخرہ دکھانا: بچوں کو باہر کا کھانا کھانے کی اس قدر عادت پڑ چکی ہے کہ گھر میں بنی ہوئی ہر چیز پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔
ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا: 
نازک مزاج ہونا: ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہ ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دیتا تھا مگر اب دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔
ناک رگڑنا: 
منت سماجت کرنا: اپنے بے گناہ بیٹے کو پھانسی سے بچانے کے لیے غریب مزدور نے بڑے بڑے ججوں کے سامنے ناک رگڑی مگر بے سود۔
ناک کٹنا:
بدنامی ہونا: گھر سے بھاگ کر شادی کر کے اس نے اپنے خاندان کی ناک کٹوا دی ہے۔
ناک میں دم کرنا: 
بہت تنگ کرنا: سب بچوں نے مل کر دادی جان کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔
ناکوں چنے چبوانا:
بہت تنگ کرنا: اگر تم نے میری رقم جلد واپس نہ کی تو میں ایسے ناکوں چنے چبواؤں گا کہ یاد رکھو گے۔
ناک کا بال ہونا: 
بہت قریب ہونا: وہ خان صاحب کا پرانا ملازم ہے اس لیے ان کی ناک کا بال بنا ہوا ہے۔
نیکی برباد گناہ لازم: 
بھلائی کرنا مگر برائی پانا: بدنیت شخص کے ساتھ خواہ کتنی بھلائی کرو مگر انجام وہی کہ نیکی برباد گناہ لازم۔
نشہ ہرن ہونا: 
نشہ دور ہونا: خود کو پولیس کی حراست میں پا کر شرابی کا سارا نشہ ہرن ہو گیا۔
نظروں سے گرنا: 
بے قدر ہونا: اپنی چغل خوری اور جھوٹ بولنے کی عادت کی بنا پر وہ ہم سب کی نظروں سے گر چکی ہے۔
نیند حرام کرنا: 
سونے نہ دینا: آج کل کے موسم میں مچھروں نے نیند حرام کر رکھی ہے۔
نو دو گیارہ ہونا:
بھاگ جانا: چور مسجد سے نمازیوں کے جوتے اٹھا کر نو دو گیارہ ہو گیا۔
نظروں میں پھرنا: 
یادآجانا: اپنے پرانے گھر کو دیکھ کر بچپن کی یادیں میری نظروں میں پھر گئیں۔
نقشہ بگڑنا: 
حالت بدل جانا: غربت اور بدحالی انسان کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیتی ہے۔
مسیب کی شامت: 
بدقسمتی: یہ پاکستانیوں کے نصیب کی شامت ہے کہ انہیں آج تک کوئی مخلص حکمران نہیں مل سکا۔
نکسیر بھی نہیں پھوٹی: 
ذرا بھی صدمہ نہ پہنچنا: ہمسائے میں اتنا بڑا حادثہ ہو گیا مگر ناظمہ کی نکسیر بھی نہیں پھوٹی۔
وارے نیارے ہونا: 
خوب فائدہ ہونا: اس سال چینی اتنی مہنگی بکی ہے کہ مل مالکان کے وارے نیارے ہو گئے ہیں۔
واہی تباہی بکنا: 
بے ہودہ باتیں کرنا: ہوش میں رہ کر بات کرو، کیا واہی تباہی بک رہے ہو؟