ایک جنگلی چوہے اور چمگادڑ میں بہت دوستی تھی۔ وہ مل کر رہتے اور ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ چمگادڑ بہت اچھا سوپ بناتی تھی جو جنگلی چوہے کو بہت پسند آتا تھا۔ ایک دن جنگلی چوہے نے چمگادڑ سے پوچھا کہ تم جو سوپ بناتی ہو وہ اتنا مزیدار کیسے ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ دونوں دوست تھے لیکن چمگادڑ چوہے سے جلتی تھی۔ اس لیے اس نے چوہے کو کہا کہ وہ پانی میں خود کو ابالتی ہے اور پھر اس میں اپنا نرم گوشت ڈالتی ہے، اس لیے سوپ اتنا مزیدار بن جاتا ہے۔ چمگادڑ نے کہا کہ وہ اسے ایسا کر کے بھی دکھائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک پانی کا برتن لیا اور چوہے کو بتایا کہ اس میں ابلتا ہوا گرم پانی ہے۔ پھر چمگادڑ نے اس میں چھلانگ لگا دی اور باہر آگئی۔ جب سوپ تیار ہوا تو ہمیشہ کی طرح وہ بہت مزیدار اور لذیذ تھا۔
چوہا جب گھر گیا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ چمگادڑ کی طرح ایک مزیدار سوپ تیار کرے گا۔ اس نے اپنی بیوی سے پانی ابالنے کو کہا۔ جب پانی ابلنے لگا تو چوہے نے اس میں چھلانگ لگا دی اور بہت جلد مر گیا۔ چوہے کی بیوی نے اپنے شوہر کو اس میں ابلتا دیکھا تو اسے دکھ کے ساتھ ساتھ بہت غصہ آیا۔اس نے جنگل کے بادشاہ کو اس سارے واقعے کی اطلاع کر دی۔ بادشاہ نے چمگادڑ کو قید کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ہر کوئی چمگادڑ کی تلاش میں نکل پڑا۔ ادھر چمگادڑ کو پتا تھا کہ ایسے ہی ہوگا۔ چنانچہ اس نے اپنے آپ کو جھاڑیوں میں چھپا لیا۔ دن بھر سب نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن نہ پکڑ سکے اور تھک ہار کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ رات کو چمگادڑ جھاڑیوں سے باہر نکل آئی اور اپنے کھانے پینے کا انتظام کیا۔ اس دن سے چمگادڑ نے اپنی عادتیں بدل لیں۔ وہ دن بھر جھاڑیوں میں چھپی رہتی اور رات کو کھانے کی تلاش میں باہر نکل آتی۔ اسی وجہ سے چمگادڑ آپ کو دن میں کبھی نظر نہیں آتی ۔






